.

ایک سعودی آرٹسٹ نے جنوبی ریجن کے ثقافتی خزانے کوکیسے دوبارہ دریافت کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ورثے اور ماضی کی زبان میں ایک سعودی آرٹسٹ نےاپنی پینٹنگز میں ثقافتی ورثے کو ورثے اور انسانی تعامل کے ساتھ پیش کرکے ملک کے جنوبی علاقوں کی ثقافت کو ایک نئے انداز میں زندہ کیا ہے۔

اس نے یادگارتصاویرکو کاغذ پر رنگوں کے ساتھ پیش کرکے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں انسانی جذبات، میل جول اور ماحو سے متاثر بصری خصوصیات کو دنیا تک پہنچایا۔ اس کے اس آرٹ نے مملکت کے جنوبی علاقوں کی ثقافت اور کلچر کو منفرد انداز میں زندہ کیا گیا۔

سعودی سوسائٹی فار فائن آرٹس (جے ایس ایف ٹی) کے رُکن محمد آل شایع نے رنگوں سے بھرپور اپنی پینٹنگزکی اس انداز میں فارمیشن کی کہ غائب کی دُنیا کے واقعات کو حاضر اور موجود کی دنیا میں لایا جا سکے۔ اس نے آرٹسٹ کی روزانہ ڈائری اور اس کے انسانوں کے ساتھ تعلقات کو مختلف کلر بلاکس کی شکل میں پیش کیا.

آل شائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اپنی پینٹنگز میں ماضی کو مجسم کرنے کے لیے اپنی محبت کے راز کے بارے میں بتایا کہ اس کے پاس ماضی کے ٹھوس عناصر کا اسٹاک موجود ہے۔ اس نے ہمیشہ فائن آرٹ پینٹنگ کے ذریعے خوبصورت ماضی کو واپس لانے کی کوشش کی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ میرا مقصد آرٹ کا ایسا پیغام پہنچانا ہے جو خوبصورتی اور تخلیقی صلاحیت کو فروغ دے۔ صارف ،آرٹسٹ اور کام کے درمیان فرق کم کرے۔ جو سادگی میں دلچسپی بڑھائے ، مصوری کی لاگت کم کرے، فن کے ساتھ ایمانداری اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے آرٹسٹ کی کامیابیوں میں دکھائی دے تاکہ پتا چلے کہ کس کی خوبصورتی پیچیدگیوں سے دور ہے۔

تجریدی آرٹ اسکول

فائن آرٹ اسکول کے ذریعے آل شائع اپنے فن کو بڑھانے میں کامیاب ہوا۔ اس نے اپنے آرٹ ورک کے ذریعے فائن آرٹ کےشعبے میں اپنی مخصوص پہچان بنائی اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں سے ایک کو حاصل کرنے کی جدو جہد پر توجہ مرکوز کی۔ سعودی عرب کے ولی عہد کی طرف سے وژن 2030 کے اہداف میں آرٹ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

اسی سیاق و سباق میں شائع نے زور دیا کہ مصور کی کامیابی کے لیے سب سے اہم ٹول آرٹ ورک میں استعمال ہونے والے مواد کے معیار پر توجہ دینا ہے اور پڑھائی میں دلچسپی کے ساتھ ، خود ترقی اور اپنی درست مہارت میں مسلسل کام کرنا ہے۔ اپنے کام کا خود تجزیہ کامیابی کے سب سے اہم ٹولز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوی آرٹ کے میدان میں تیزی کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور انہیں فالو کرنا چاہیے۔ میں نے ماضی میں پرانے گھروں ، دروازوں اور ملبوسات کی تصویر کشی پر توجہ مرکوز کی۔ ان تصاویر کو پینٹنگز میں منتقل کرنے کے بارے میں سوچا جو جنوبی علاقے کا ورثہ ہے اور اس طرح میں اس علاقے کے ورثے کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوا۔

الشائع نے علم کے ساتھ ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آرٹ ایجوکیشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ میں آرٹسٹک ایسوسی ایشنز سے وابستہ ہوں۔ کلچر اینڈ آرٹس ایسوسی ایشن اور عسیر میں آرٹ ایجوکیشن کی مشاورتی کونسل کا بھی رکن ہوں۔