.

طائف یونیورسٹی کے پروفیسرکے طلبا کے خلاف نازیبا ریمارکس کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں طائف یونیورسٹی کے ایک فیکلٹی ممبر کی جانب سے طلبا کے بارے میں نازیبا ، جارحانہ اور ناقابل قبول الفاظ کے استعمال پر یونیورسٹی کی طرف سے تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پرایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں مذکورہ پروفیسر کوطلبا اور طالبات کے درمیان تعصب پرمبنی ریمارکس کا اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پرپروفیسر کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ ٹرینڈ کرنے لگا۔

یونیورسٹی میں تدریسی عملے کے رکن کی طرف سے غیرمناسب الفاظ کے استعمال کی خبر سامنے آنے کے بعد جامعہ کی طرف سے اس کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔

طائف یونیورسٹی کی طرف سے جاری بیان میں پروفیسر کے بیان کو اس کا ذاتی فعل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی اس کی چھان بین کرکے جلد اس کی رپورٹ جاری کرے گی۔

بیان میں طلبا اور طالبات کے درمیان تعصب کا مظاہرہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے ریمارکس کا یونیورسٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔

"طالبات میری بیٹیاں، طلبا کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتا ہوں"

ویڈیو نشرکرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا گیا کہ طائف یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے طلبا پر طالبات کو ترجیح دیتے ہوئے طالبات کو اپنی بیٹیوں کے مترادف قرار دیا جب کہ طلبا کے بارے میں کہا کہ انہیں پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتا ہوں۔

اس نے ایک طالب علم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طلبا کو پاؤں کی ٹھوکر پررکھتا ہوں۔ اس کے ان متنازع ریمارکس کے سامنے آنے کے بعد ٹویٹر پر#Professor_Understand_Students ٹرینڈ کرنے لگا جس میں صارفین نے مذکورہ پروفیسر کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔