.

حزب اللہ کے معاونین اور سہولت کاروں پر امریکا کی نئی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ روابط پر متعدد افراد پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر کل جمعے کو پوسٹ کی گئی تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے حزب اللہ ملیشیا سے منسلک نیٹ ورک اور افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں جنہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی اثاثہ جات مانیٹرنگ دفتر ’OFAC‘ نے لبنان اور کویت میں مقیم اس مالیاتی نیٹ ورک کے ارکان کی نشاندہی کی ہے جو حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی حمایت میں مالی سہولت کاروں اور فرنٹ کمپنیوں میں کام کرتے ہیں۔

کروڑوں کی منی لانڈرنگ

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق بلیک لسٹ افراد یا نیٹ ورک نے علاقائی مالیاتی نظام کے ذریعے دسیوں ملین ڈالرز کی لانڈرنگ کے ذریعے کالا دھن سفید کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے حزب اللہ اور ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب دونوں کے فائدے کے لیے کرنسی ایکسچینج اور گولڈ ٹریڈنگ بھی کی۔

بلیک لسٹ ہونے والوں میں الشاعر نامی ایک شخص بھی شامل ہے جو جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں بنت جبیل میں پیدا ہوا۔ نیٹ ورک میں کویتی جمال حسین عبد علی عبدالرحیم جسے الشاطی یا "شطی" بھی کہا جاتا ہے شامل ہے۔

بلیک لسٹ ہونے والوں میں حسیب محمد ہدوان اور طالب حسین کا نام لیا گیا ہے۔ ھدوان ’الحاج زین‘ کے عرفی نام سے بھی مشہور ہے۔ وہ حسن نصراللہ کو براہ راست جواب دہ جنرل سیکریٹریٹ میں ایک سینیر عہدیدار ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ الحاج زین لبنان سے باہر عطیہ دہندگان اور تاجروں سے فنڈ اکٹھا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ جبکہ شاعر اپنے دفتر سےسنہ 2000 سے حزب اللہ کی جانب سے مالیاتی لین دین کرتا ہے۔

بلیک لسٹ طالب حسین پر الزام ہے کہ اس نے کویت سے حزب اللہ کو لاکھوں ڈالر کی رقم الشطی کے ذریعے منتقل کی۔ اس نے حزب اللہ کے عہدیداروں سے ملنے اور رقم عطیہ کرنے کے لیے کئی بار لبنان کا سفر بھی کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران امریکا نے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے بین الاقوامی نیٹ ورک پر کئی بار پابندیاں عاید کی ہیں۔ ان پابندیوں میں حزب اللہ کو فنڈز فراہم کرنے والے درجنوں افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔