.

خوفناک ناموں والی یمن کی پراسرار غار کی حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مشرق میں واقع مہرہ گورنری میں ایک خوفناک غار پائی جاتی ہے جس کے لیےعربی میں انتہائی خوف ناک نام رکھے گئے ہیں۔ ان ناموں میں بئر برھوت، ’خسف فوجیت‘ جھنم کی غار، جنات کا کنواں اور موت کی غار جیسے نام شامل ہیں۔

بہت سی پراسرار غاروں کی طرح یمن کی اس غار کے بارے میں بھی کئی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں اور آج تک کوئی شخص اس غار میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرسکا۔

غاروں کی دریافت کے لیے کام کرنے والی ایک عمانی ٹیم نے 30 میٹر گول منہ والی اس پراسرار غار کی حقیقت کا عقدہ کھولا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ جس طرح اس غار کے بارے میں خوف پھیلایا گیا ہے وہ سچ نہیں۔ یہ کوئی خوفناک غار نہیں۔ تاہم اس میں متعدد جانور ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

دلفریب آبشاریں

نیشنل جیوگرافک کی جانب سے ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمانی ماہرین کی ٹیم اس گہرے کنوئیں کے اندر اتری تو اسے پتا چلا کہ کنویں کا پانی اس کے اطراف سے چھوٹی چھوٹی خوبصورت آبشاروں کی شکل میں پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ ماہرین نے اس غار کے ارضیاتی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا بھہی جائزہ لیا۔ تحقیق سے پتا چلا کہ اس غار میں بہت سے جاندار اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں جن میں مینڈک، سانپ اور کئی حشرات الارض شامل ہیں۔

یہ کنواں نما غار ’فوجیت‘ کے مقام پر مہرہ گورنری کے دو شہروں کو ملانے والی شاہراہ پر ہے۔ یہ شاہراہ شحن اور الغیضہ شہروں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہ غار اس علاقے کا اہم لینڈ مارک ہے جسے مصنوعی سیاروں سے بھی دیکھا گیا ہے۔

سطح زمین پراس غار کا دھانہ 30 میٹر دائرے کی شکل میں ہے۔ یہ پہاڑی چٹانوں کے درمیان واقع ہے۔ اس اس کے اطراف میں پائے جانے والے پہاڑ میں بیشتر چونے کے پتھر ہیں۔ اطراف سے پانی کی کئی نالیاں بھی اس میں گرتی ہیں۔

آنے والے وقتوں میں یہ غار اس علاقے کا اہم سیاحتی اور ماحولیاتی مقام بن سکتا ہے۔