.

’حوثی ملیشیا کے تبدیل شدہ نصاب تعلیم میں ایران کی چھاپ‘

حوثیوں کے نصاب تعلیم میں تبدیلی کے درپردہ مقاصد پر سعودی ادارے کی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں قائم ریسرچ سینٹر اور علمی رابطہ کاری نے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے اسکولوں کے طلبا کےلیے تیار کردہ نصاب تعلیم اور اس میں کی جانے والی تبدیلیوں پر تحقیق کی ہے۔

سعودی ریسرچ سینٹر نے ’یمنی تعلیمی اداروں اور حوثیوں کی طرف سے نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کا تحقیقی جائزہ‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کے نام نہاد ماہرین تعلیم کی جانب سے تیار کردہ نصاب تعلیم میں نئی نسل کے ذہنوں میں حوثیوں کی عظمت پیدا کرنے اور ایران کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ سعودی محقق ڈاکٹر عبدالکریم بن اسعد الیمانی نے تیار کی ہے جسے پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ان پانچ ابواب میں حوثی لیڈروں کا تعارف بھی شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حوثیوں کے نئے نصاب تعلیم سے موجودہ اور آنے والی نسل کے ذہنوں پر براہ راست یا بالواسطہ اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

حوثیوں کی طرف سے یمن کے نصاب تعلیم میں کی جانے والی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے نصاب تعلیم میں تبدیلی کی راہ پر چل رہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالکریم کی تیار کردہ 116 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ حوثیوں کی طرف سے نئی یمنی نسل کے ذہنوں کو تباہ کی منظم سازش کا پردہ چاک کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کی آئینی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں بچوں کو اعتدال پسندی اور امن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ صعدہ اور عمران جیسے علاقوں میں موجود زیدیہ فرقے کے تعلیمی ادارے بھی ملک میں اعتدال پسندانہ نظریات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں۔