.

چھ دھائیوں کے دوران اسرائیلی زندانوں سے فلسطینی قیدیوں کے فرار کے واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چھ ستمبر 2021ء کو اسرائیل کی فول پروف سیکیورٹی والی جبلوع جیل سے چھ فلسطینی سرنگ کھود کر فرار ہوئے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے فرار ہونے والے تمام فلسطینیوں کو ڈھونڈ نکالا اور انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی عقوبت خانوں سے فلسطینی اسیران کے فرار کا نہ تو یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ہوسکتا ہے۔

سابق اسیر اور فلسطینی محکمہ امور اسیران کے اسٹڈین یونٹ کے سربراہ عبدالناصر فروانہ نے چھ دہائیوں کے دوران اسرائیلی زندانوں سے فلسطینی اسیران کے فرار کے 29 واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیلوں سے فرار کی پہلی کارروائی 1958ء میں عمل میں آئی جب کہ تازہ اور اب تک کی آخری فرار کی کوشش2021ء میں کی گئی۔

عبدالناصر فروانہ فلسطین نیشنل کونسل کے بھی رکن ہیں۔ انہوں نے اخبار ’الشرق‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے جلبوع جیل سے فلسطینی قیدیوں کے سرنگ کے ذریعے فرار اور ماضی میں فرار کی کامیاب اور ناکام کوششوں کا احوال بیان کیا۔

دس لاکھ فلسطینی قیدی

عبدالناصر فروانہ کا کہنا ہےکہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے بعد اب تک اسرائیل دس لاکھ [ایک ملین] کے لگ بھگ فلسطینیوں کو پابند سلاسل کرچکا ہے۔

اسرائیل کی جلبوع جیل
اسرائیل کی جلبوع جیل

انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی 4600 فلسطینی اسرائیلی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں پابند سلاسل ہیں۔ یہ فلسطینی 23 بڑی جیلوں میں ڈالے گئے ہیں۔ ان میں 200 بچے اور 40 خواتین ہیں جب کہ 500 فلسطینیوں کو انتظامی قید کی پالیسی کے تحت بغیر کسی جرم، الزام یا مقدمہ چلائے بغیر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ اسرائیلی زندانوں میں ایک یا زاید بار عمرقید کی سزا کاٹنے والے فلسطینیوں کی تعداد 544 ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 100 فلسطینی 20 سال سے زاید عرصے سے پابند سلاسل ہیں۔ 34 کی مسلسل قید کا عرصہ 30 سال اور 13 اسیران 30 سال سے زاید عرصے سے کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کئی ایسے فلسطینیوں کو بھی دوبارہ گرفتار کرلیا تھا جنہیں 2011ء میں مشہور زمانہ ’گیلاد شالیت‘ ڈیل کے تحت رہا کیا گیا تھا۔ اس ڈیل کے تحت اسرائیل نے ایک ہزار سے زاید فلسطینیوں کو اپنے ایک فوجی قیدی کے بدلے میں رہا کیا تھا۔ اسرائیلی زندانوں میں قید کئی سرکردہ رہ نماؤں مین نایل البرغوغثی سرفہرست ہیں جو 41 سال اسرائیلی زندانوں میں قید کاٹ چکے ہیں۔

جیل سے فرار کے 29 واقعات

عبدالناصر فرروانہ نے بتایا کہ اسرائیلی زندانوں میں چھ عشروں کے دوران فلسطینیوں کے فرار کے 29 واقعات سامنے آچکے ہیں۔

اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کے فرار کےواقعات کو زمانی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔

1۔ 31 جولائی 1958ء کو غور بیسان کے مقام پر واقع شطہ جیل سے 190 فلسطینی قیدی اجتماعی طور پر فرار ہوگئے تھے۔ یہ اسرائیلی جیلوں سے فرار کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔ اسرائیل نے اس فرار کو قیدیوں کی بغاوت قرار دیتے ہوئے انہیں واپس لانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں دو قیدی جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

اس بغاوت نے 77 فلسطینیوں کو فرار کاموقع فراہم کیا۔ ان میں الخلیل کے محمود عیسیٰ البطاط، غزہ کے احمد خلیل، مصر کے احمد علی عثمان بھی شامل تھے جنہوں نے مل کر فرار کا یہ پلان تیار کیا تھا۔ جب یہ قیدی فرار ہوئے تو اسرائیلی فوج نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے ان میں سے گیارہ کو قتل کرڈالا جب کہ باقی قیدیوں نے خود کو اردنی فوج کےحوالے کر دیا تھا۔

2۔ جنوبی حیفا کے علاقے عارہ سے تعلق رکھنے والے حمزہ یونس المعروف ’لزئبق‘ نے سرائیلی جیلوں سے فرار کی تین کوششیں کیں۔ پہلی کوشش17 اپریل 1964ء کو کی گئی۔ اس وقت حمزہ یونس عسقلان جیل میں قید تھے۔ فرار کی دوسری کوشش 1967ء کو کی جب وہ ایک اسپتال میں تھے جب کہ فرار کی تیسری کوشش سنہ 1971ء میں الرملہ جیل سے کی۔ یہ کوشش کامیاب رہی اور وہ فرار ہو کر لبنان چلے گئے۔

3۔ اسرائیلی جیلوں سے فرار کی تیسری کوشش مغربی جنین کے علاقے الیامون کے رہائشی ھلال محمد جرادات نے 1966ء میں کی۔ اسے متعدد بار حراست میں لیا گیا۔ آخری بار1987ء کو اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور 24 سال بعد معاہدہ ’وفا احرار‘ کے تحت 2011ء میں اسے رہا کیا گیا تاہم اسے اپنے آبائی شہر جنین سے بے دخل کر کے غزہ بھیج دیا گیا۔

محمد جرادات نے مارچ 1983ء کو شمال مشرقی نابلس کی الفارعہ جیل سے فرار کی کوشش کی۔ وہ جیل کی بیرونی دیوار پر لگی خار دار تاریں کاٹ کر فرار ہوگئے تاہم چند گھنٹوں کے بعد اسرائیلی فوج نے انہیں دوبارہ پکڑ لیا۔

سنہ 1985ء کو اس نے فرار کی دوبارہ کوشش کی۔ اس بار یہ کوشش جیل میں آنے والے ملاقاتیوں کےدرمیان کی گئی۔ اس وقت وہ جنین کی ایک فوجی جیل میں قید تھے۔ جرادات فرار میں کامیاب ہوگئے تاہم بہت جلد اسرائیلی فوج نے فرار کا پتا چلا لیا۔ فوج نے مفرور قیدی کا تعاقب کیا اور اسے جنین۔ حیفا شاہراہ سے گرفتار کر لیا گیا۔

4۔ اسرائیلی زندانوں سے فرار کی تیسری کوشش اردن کی فری نیشنل آرمی کے ایک سابق افسر اور غزہ کے پیدائشی یوسف رجب الرضیع نے کی۔ اردنی فوج کے دسیوں افسران اور سپاہی فلسطین کے عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین میں شامل ہوگئے اور اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔

الرضیع کو سنہ 1968ء میں رام اللہ سے حراست میں لیا گیا۔ انہیں ایک فوجی عدالت میں مزاحمتی کارورائیوں کے بارے میں جاری کیس میں پیش کیا گیا مگر وہ عدالت سے فرار ہوگئے اور بھاگ کر دوبارہ اردن چلے گئے اور ایک بار پھر اردنی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

الرضیع کو فلسطین پاپولر فرنٹ کی طرف سے اسرائیل کی ’العال‘ فضائی کمپنی کاایک طیارہ اغوا کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے اسرائیل کا ایک مسافر جہاز اغوا کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اس جہاز کو الجزائر میں اترنے پر مجبور کیا گیا۔ اس پر 100 مسافر سوار تھے۔

تئیس جولائی 1968ء کو پاپولرفرنٹ اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ ہوا۔ یہ ڈیل ریڈ کراس کی نگرانی میں طے پائی تھی۔ اس ڈیل میں الرضیع کو بھی رہا کیا گیا اور وہ 30 دسمبر 2006ء تک اپنی وفات تک جیلوں سے آزاد رہے۔

5۔ نومبر 1969ء کو اسیر محمود عبداللہ حماد نے رام اللہ جیل سے ایک دوسری جیل میں منتقلی کے دوران فرار کی کامیاب کوشش کی۔ وہ اردن اور وہاں سے کویت منتقلی تک 9 ماہ تک جبال سلواد میں روپوش رہے۔

6۔ گیارہ اگست 1972ء کو جبالیا کیمپ کے رہائشی اسیر حسن محمود حسن لبد نے اسرائیل کی سخت سیکیورٹی والی جیل بئر سبع سے ملاقاتیوں کے روپ میں فرار کی کامیاب کوشش کی۔ وہ ایک بس میں سوار ہو کر غزہ آگئے تاہم 20 روز بعد انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے لبد کو تین اپریل 1970ءکو حراست میں لیا اور اسے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فرار کے بعد جب دوباہ گرفتار کیا گیا تو اسے دو الگ الگ عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ ایک عدالت نے انہیں تین سال قید جب کہ دوسری عدالت نے اسلحہ رکھنے کے الزام میں 15 سال قید کے ساتھ سابقہ قید کی سزا سنائی۔ لبد کو سنہ 1985ء میں قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے میں رہا کر دیا گیا تاہم اس وقت اس کی قید کی سزا پوری نہیں ہوئی تھی۔

7۔ سنہ 1972ء کو اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے فلسطینی اسیر احمد عمران کو سزائے موت سنائی تاہم بعد ازاں سزا میں تخفیف کر کے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس نے فرار کے لیے اسرائیل کی عسقلان جیل کے باورچی خانے میں کام کی درخواست کی۔

عمران اسرائیلی فوج کو کئی عسکری کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ وہ پاپولر فرنٹ کے النصیرات میں سرگرم جنگجوؤں میں شامل رہا جنہیں اسرائیل ’جھنم کے بادل‘ کا نام دیتا تھا۔

عمران اسرائیلی جیل میں سامان لانے والے ایک ٹرک ڈرائیور کی مدد سے فرار ہوا۔ فرار کے بعد وہ دوبارہ النصیرات آگیا اور دوبارہ مزاحمتی کارروائیوں میں سرگرم ہوگیا۔ فرار کے چار ماہ بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں عمران جام شہادت نوش کر گیا۔

8۔ 27 جنوری 1983ء کو فلسطینی اسیر ناصر عیسیٰ حامد نے رام اللہ میں قائم اسرائیل کی ایک عدالت سے فرار کی کوشش کی۔ وہ فرار کے بعد چار روز تک غائب رہا۔ اسرائیلی فوج نے اسیر کی ماں کو گرفتار کیا تو ماں کی گرفتاری کے بعد اس نے خود کو اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا تھا۔

9۔ سنہ 1983ء کو غرب اردن کے خالد برغوث اور فھیم حمامرہ اور اللد کے مخلص برغمال نے دامون جیل سے فرار اختیار کیا۔ ان کی رہائی میں ایک دوسرے قیدی خالد الارزق نے مدد کی۔ انہوں نے جیلروں کی توجہ ان سے ہٹائے رکھی اور تینوں فلسطینی جیل سے فرار ہوگئے۔

فرار کے بعد اسرائیلی فوج نے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا اور انہیں بدترین اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا اور قید تنہائی میں ڈالا گیا جہاں وہ کئی ماہ تک قید تنہائی میں رہے۔

مشہور فرار

10۔17 جولائی 1987ء کو چھ فلسطینی قیدی مصباح الصوری، محمد الجمل، سامی الشیخ جمیل، صالح ابو شباب، عماد الصفطاوی اور خالد صالح غزہ میں اسرائیل کی سینٹریل جیل سے فرار ہوگئے۔

کئی ماہ کے تعاقب اور تلاش کے بعد ان میں سے تین مفرور مصباح الصوری، محمد الجمل اور سامی الشیخ اسرئیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے۔

11۔ 21 اگست 1987ء کو غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 3 فلسطینی قیدی خلیل مسعو الراعی، شوقی ابو نصیرہ اور کمال عبدالنبی اسرائیل کی صحرائے نقب جیل سے آہنی باڑ توڑ کر اور خار دار تار کاٹ کر فرار ہوگئے۔ مسلسل آٹھ دن کے تعاقب کے بعد اسرائیلی فوج نے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا۔

12۔ 27 مئی 1989ء کو بیت جالا کے رہائشی قیدی شادی شوکت درویش نے الخلیل جیل کی ساتویں منزل سے فرار کی کامیاب کوشش کی تاہم وہ 16 اگست کو الخلیل میں دورا کے مقام پر ایک جھڑپ میں مارا گیا۔

اسرائیلی فوج نے شہید کا جسد خاکی قبضے میں لے لیا اور پانچ سال بعد 31 اگست 1994ء کو انسانی حقوق کے اداروں کی کوششوں سے جسد خاکی اس کے لواحقین کو دیا گیا۔

13۔ 10 مارچ 1990ء کو شمالی غزہ کے جبالیا پناہ گزین کیمپ کے 5 فلسطینی قیدی رفیق حمدونہ، انور ابو حبل، ایمن عابد، عمر العرنین اور عماد القطنانی اسرائیل کی النقب جیل سے فرار میں کامیاب ہوگئے۔ تینوں فلسطینی قیدی طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے مصر وہاں سے تونس جا پہنچے تاہم وہ دوبارہ فلسطین آئے تو سرحد پر رفیق حمدونہ اور انور ابو حبل کو گرفتار کرلیا گیا۔

14۔14 مئی 1990ء کو غزہ کے البریج کیمپ سے گرفتار کئے گئے محمود جابر یوف نشبت اسرائیل کی النقب جیل سے فرار ہوگیا۔ وہ ایک سبزی کے ٹرک پر بیٹھ کرجیل سے نکل گیا تھا۔ وہ وہاں سے آبائی علاقے غزہ آگیا اور نو اگست 1990 مو مصر کی سرحد پر اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

اسپتال سے فرار

15۔ 21 مئی 1990ء کو گرفتاری کے چار سال بعد جنین سے تعلق رکھنے والے عمر النائف کو بیماری کے بعد اسپتال لایا گیا۔ طویل بھوک ہڑتال کے باعث اس کی حالت تشویشناک تھی. تاہم وہ اسپتال سے فرار ہو کر اردن چلا گیا جہاں سے وہ بلغاریا پہنچا۔ اسے 26 فروری 2016ءکو سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا۔

16۔ 1990ء کے موسم گرما میں غزہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں مصطفیٰ ابو العطا اور فیصل مہنا نے مغربی غزہ میں قائم انصار 2 جیل سے فرار کی کامیاب کوشش کی تاہم انہیں ایک ماہ بعد انہیں دوبارہ گرفتار کر لیاگیا۔

17۔ سات جولائی 1992ء کو خان یونس کے اسیر محمد علی النجارعدالت میں لے جاتے ہوئے فرار ہوگیا۔ وہ فرار کے بعد دوبارہ غزہ پہنچا اور مزاحمتی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ اسرائیلی فوج کےساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا۔

18دو جنوری 1995ء کو غزہ کے جبالیا کیمپ سے تعلق رکھنے والے یاسر محمد صالح نے اسرائیل کی النقب جیل سے فرار کی کوشش کی۔ تاہم اسے مصری سرحد سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور وہ 2009ء میں اپنی قید تک پابند سلاسل رہا۔

19 ۔1996ء کو النقب جیل میں قید صالح طحاینہ فرار ہوگیا۔ اس نے ایک دوسرے قیدی کا روپ دھارا جسے رہا کیا جانا تھا۔ اس طرح وہ اسرائیلی فوج اور جیل انتظامیہ کو چکمہ دے کر فرار ہوگیا۔ آخر کار اسے رام اللہ میں چار جولائی 1996ء کو ایک جھڑپ میں مارا گیا۔

20۔ چار اپریل 1996ء کو غرب اردن سے تعلق رکھنے والے اسیران غسان مہداوی اریحا کے توفیق الزبن نے اسرائیل کی کفار یونا جیل سے 11 میٹر لمبی سرنگ کھود کر فرار کی کوشش کی۔ انہیں فرار کے ایک سال بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

21۔12 جولائی 1996ء کو چھ فلسطینی اسیران جہاد ابو غبن، ثائر الکرد، نہاد جندیہ، محمد حمدیہ، حافظ قندس اور نضال زلوم عسقلان جیل سے فرار ہوگئے۔ یہ فرار جیل کے ویٹنگ روم سے کیا گیا۔

سرنگوں کے ذریعے فرار

22۔ سنہ 1996ء کو فلسطینی اسیران کا ایک گروپ عسقلان جیل سے 17 میٹر طویل سرنگ کھود کر فرار ہوا تاہم سوریج لائن بند ہونے کے باعث وہ فرار نہ ہوسکا۔ جیلروں کو شک ہوا تو انہوں نے تلاش شروع کی اور قیدیوں کی فرار کی کوشش ناکام بنا دی۔

23۔ سنہ 1998ء کو فلسطینی قیدی عبدالحکیم حنینی، عباس شبانہ، ابراہیم شلش اور دیگر نے اسرائیل کی شطہ جیل سے سرنگ کے ذریعے فرار کی کوشش کی تاہم ان کے فرار کے فوری بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

24۔ اسیر محمد سلمان مرزوق ابو جاموس جس کا تعلق غزہ سے تھا، نے اسرائیلی جیلوں سے فرار کی کئی بار کوشش کی۔ وہ 6 جون 2002ء کو جیل سے فرار کی کوشش میں کامیاب رہا۔

تاہم فرار کے تین دن بعد اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا اور اسے 28 سال قید کی سزا سنائی گئی تام وہ وفا اسیران معاہدے میں رہا ہوگیا۔

25۔ 22 مئی 2003ء کو اسرائیل کی عوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں ریاض خلیفہ، امجد الدیک اور خالد شنایطہ نے پندرہ میٹر لمبی سرنگ کھودی اور فرار ہوگئے۔

تینوں اسیر فرار کے بعد سات ماہ تک روپوش رہے۔ 12 دسمبر 2003ء کو ان کی مدت قید ختم ہوئی تو انہیں کفر نعمہ کے مقام پر پایا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے ریاض خلیفہ کو جھڑپ میں شہید کر دیا۔

26۔ 13 جولائی 2014ء کو اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے بتایا کہ شطہ جیل کے ایک کمرے کے ٹوائلٹ سے سرنگ کی کھودائی کا پتا چلا ہے۔ اس کے علاوہ فوج نے دعویٰ کیا کہ قیدیوں کے قبضے سے جیلروں کے یونیفارم سے ملتے جلتے کپڑے بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

27۔ چار اگست 2014ء کو اسرائیل نے جلبوع جیل سے فلسطینی اسیران کے فرار کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ فرار کی یہ کوشش جیل کے ایک ٹوائلٹ سے سرنگ کھود کر کی جا رہی تھی۔

28۔ 10 اکتوبر 2016ء کو اسرائیلی جیل انتظامیہ نے بئرسبع کے جنوب میں قائم ایچل جیل سے فلسطینیوں کے فرار کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔

29۔ اسرائیلی زندانوں سے فلسطینی اسیران کی فرار کی اب تک کی سب آخری کارروائی 6 ستمبر 2021ء کو کی گئی۔ یہ کارروائی محمود العارضہ، محمد العارضہ، یعقوب القادری،ایھم کممجی، زکاری الزبیدی اور مناضل النفیعات نے کی تھی۔

یہ فلسطینی ایک سرنگ کے ذریعے فرار میں کامیاب ہوئےتاہم ان میں سے چار کو اسرائیلی فوج نے چار روز بعد گرفتار کرلیا جب کہ دو کی گرفتاری 13 دن بعد عمل میں لائی گئی۔ اس کارروائی میں اسیران 25 میٹر طویل سرنگ کھودنے میں کامیاب رہے۔ یہ سرنگ نو ماہ کےعرصے میں کھودی گئی تھی۔