.

تائیکوانڈو کی دنیا میں ملک کا نام روشن کرنے والے دو ننھے سعودی چیمپییئن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کھیلوں کے شائقین کے لیے امریکا سے ایک اچھی خبر آئی ہے۔ خبر یہ ہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے دو کم عمربچوں نے تائیکوانڈو کا مقابلہ جیت کرملک کا نام روشن کیا ہے۔11 سالہ کندا المعاوی اور اس کے 8 سالہ بھائی احمد نے امریکی ریاست الینوائے میں تائیکوانڈو فیڈریشن چیمپئن شپ جیت لی۔

کندا اور اس کے بھائی احمد کا اس عمر میں تائیکوانڈو مقابلہ جیت کرگولڈ میڈل حاصل کرنا بلا شبہ ایک کارنامہ ہے۔ کندا المعاوی نے دو گولڈ میڈل اور احمد نے بھی 7 اور 9 سال کی درمیانی عمر کے بچوں کے مقابلے میں دو گولڈ میڈل حاصل کیے۔

سعودی عرب کے دو کم عمر بچوں کا امریکا میں تائیکوانڈو مقابلہ جیتنا ایک نیا ریکارڈ ہے اور یہ ریکارڈ گیارہ سالہ کندا اور اس کے آٹھ سالہ بھائی احمد نے توڑ کر اپنے ملک اور قوم کا نام بلند کیا ہے۔ کندا اور احمد کے والدین امریکا میں مقیم ہیں جہاں یہ دونوں بچے اسکالرشپ پرتعلیم حاصل کررہے ہیں۔

ناقابل بیان جذبات

کندا کے والد نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘سےگفتگو کرتے ہوئےکہا کہ جب مجھے پتا چلا کہ میرے بچوں نے کم عمری میں مشکل ترین کھیلوں میں کامیابی حاصل کی ہے تو میرے جذبا ناقابل بیان تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں بچوں کی مسلسل محنت اور تربیت کا ثمرہے۔ اس کے علاوہ یہ کامیابی امریکا میں خادم الحرمین الشریفین کی سفیرہ شہزادہ ریما بنت بندر بن سلطان کی سرپرستی نے بھی ان کے بچوں کے تائیکوانڈو مقابلے میں کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی سفیرہ سے ہونے والی ملاقات نے ان پر بہت مثبت اثر ڈالا۔ ان کے بچوں نے بین الاقوامی فورمز پر سعودی پرچم بلند کرنے کے لیے لگن کے ساتھ کام کیا۔ کندا نے تائیکوانڈو کے کھیل میں مقامی اور بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں اس نے فیڈریشن سنٹرل امریکا کی سطح پر پہلا مقام حاصل کرنے کے لیے چیمپئن شپ کپ جیتا۔ یہ مقابلہ اٹلانٹا میں منعقد ہوا جس میں 8 امریکی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والے بچوں نے شرکت کی۔