.

"قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری سعودی عرب کی اولین ترجیح ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اپنی تمام سرمایہ کاری کا 50 فی صد حصہ قابل تجدید اور پائیدارتوانائی کے ذرائع میں لگائے گا۔ اس بات کا انکشاف سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر اور آرامکو پٹرولیم کمپنی کے چئیر مین یاسر الرمیان نے نیویارک میں 'فوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ' کی رائونڈ ٹیبل ملاقات کے موقع پر کیا۔

یاسر الرمیان نے رائونڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "مملکت سعودی عرب اپنی تمام سرمایہ کاری کے نصف حصے کو قابل تجدید اور پائیدار توانائی کے ذرائع میں کھپانا چاہتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا دو تہائی حصہ پہلے سے موجود سرمایہ کاری کے منصوبوں سے حاصل کیا جائے گا۔ ہم قابل تجدید اور پائیدار توانائی کے میدان میں دنیا کے سب سے موثر ممالک میں سے ایک ہیں۔"

یاسرنیویارک میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ کی "صحت ہی دولت ہے" کے عنوان سے ہونے والے ہائبرڈ ایونٹ سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ ایونٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں سیشن کے ساتھ منعقد کیا گیا تھا۔

آرامکو کے چئیرمین نے خطاب میں کہا کہ "سعودی عرب کی آبادی اکثریت کی عمر 35 سال سے کم ہے اور ہم ان کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔آپ صحت کو معیشت اور پائیداری کے نقطہ نظر سے علاحدہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم سعودی عرب کی آنے والی نسلوں پر توجہ دے رہے ہیں۔"

یاسر نے بتایا کہ "فیوچر انویسٹمنٹ انسٹی ٹیوٹ دنیا کو درپیش سب سے ہنگامی چیلنجز کے پائیدار، قابل تجدید اور صحت سے جڑے حل تلاش کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور مملکت قابل تجدید ذرائع توانائی میں صرف ماحولیاتی مقاصد ہی نہیں بلکہ انسانی فلاح و بہبود کی خاطر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔"

الرمیان نے مزید بتایا کہ مستقبل کی ہر شراکت داری میں پائیدار مقاصد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اور سعودی گرین انیشی ایٹو جیسے منصوبوں کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔

پبلک انویسٹمنٹ کے گورنر کے مطابق سعودی عرب میں شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 1٫2 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ ہے جو کہ دیگر ممالک کی 15 سینٹ کی قیمت کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کا پبلک سرمایہ کاری فنڈ جلد ہی گرین سکوک بانڈز جاری کرے گا۔ یہ گرین سکوک جاری کرنے والا دنیا کا پہلا خودمختار فنڈ ہوگا۔