.

ہم جوہری مذاکرات کے ٹھوس نتائج چاہتے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نےکہا ہے کہ ان کا ملک گذشتہ جون سے تعطل کا شکار جوہری مذاکرات کی بحالی کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جوہری مذاکرات کے ٹھوس نتائج چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ کل منگل کو ایرانی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ نئی حکومت ویانا مذاکرات دوبارہ شروع کرے گی اور اس کا مطالعہ کرے گی اور ان مذاکرات کے پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔

ٹھوس نتائج

ایرانی وزیر خارجہ نےباور کرایا کہ ہر ایک کو معلوم ہونا چاہیے کہ جوہری معاہدے کے لیے ایران کو ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران پابندیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات پریقین رکھتا ہے۔

امیر عبداللہیان نے نشاندہی کی کہ تمام فریقوں کو معاہدے کے لیے اپنی وابستگی ظاہر کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بھی کل اعلان کیا کہ ویانا مذاکرات "اگلے چند ہفتوں" کے اندر دوبارہ شروع ہوں گے۔ سرکاری IRNA نیوز ایجنسی کو دیئے گئے بیانات میں انہوں نے کہا کہ 4+1 گروپ کو اس معاملے پر بریفنگ دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بھی کل اپنے ملک کی جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کا اشارہ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات بیلسٹک میزائل اور ملیشیاؤں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔