.

80 فی صد فلسطینی محمود عباس کے استعفے کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل 21 ستمبر کو شائع ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریبا 80 فی صد فلسطینی صدر محمود عباس کے استعفے کے حامی ہیں۔

فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ نے کہا ہے کہ78 فیصد رائے دہندگا جو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں تقریبا برابر ہیں کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر مستعفی ہو جائیں جبکہ 19 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر اپنے عہدے پر رہیں۔

مرکز نے ایک بیان میں مزید کہا کہ چھ ماہ قبل کےکیے گئے سروے میں 68 فیصد فلسطینیوں نے صدر عباس کے استعفے کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

تازہ سروے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں 15 سے 18 ستمبر 2021 کے درمیان کیا گیا۔

سروے کے لیے 127 مقامات پر 1270 بالغ افراد کی رائے لی گئی۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 45 فیصد فلسطینیوں کا خیال ہے کہ حماس کو فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول سنھبالنا چاہیے۔

مرکز نے مزید کہا رائے عامہ سے قبل کے عرصے میں متعدد پیش رفت دیکھنے میں آئیں جن میں سب سے اہم سیاسی کارکن نزار بنات کی گرفتاری اور فلسطینی سیکورٹی سروسز کے ہاتھوں مار پیٹ کے بعد قتل، اس کے بعد اس پس منظر میں فلسطینی اتھارٹی کے خلاف وسیع پیمانے پرمظاہرے کیے گئے۔چھ ستمبر کو اسرائیل کی جلبوع جیل سے چھ فلسطینی قیدیوں کا فرار اور ان کی دوبارہ گرفتاری بھی ایسی ہی پیش رفت تھی جس نے کسی حد تک رائے عامہ پر اثرات مرتب کیے۔

اس دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا عمل شروع کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔ صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کے درمیان رام اللہ میں ایک ملاقات بھی ہوئی جس میں فلسطین۔ اسرائیل تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقے اور فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی پر بات چیت کی گئی۔