.

سعودی عرب کا قومی دن : مشہور لوک رقص "العرضہ" سے متعلق 4 باتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ روز 91 واں قومی دن بھرپور ملی جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر مختلف مقامات پر مشہور مقامی لوک رقص "العرضہ" بھی دیکھنے میں آیا۔ طبل کی آوازوں اور تلواروں کی چمک کے ذریعے اجتماعی رقص نے دیکھنے والوں کے دل موہ لیے۔ یہ رقص درحقیقت خوشی اور امن کے جذبات کا امتزاج ہے۔ یہ فرماں روا کے ساتھ وفاداری کی تجدید کے بھی مماث ہے کیوں کہ جنگوں کے زمانے میں یہ جنگ کا رقص ہوتا تھا۔

العرضہ رقص کے حوالے سے چار باتیں پیش کی جا رہی ہیں :

پہلی : نجدی عرضہ جس کو سعودی عرضہ کا بھی نام دیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز ایک حربی نغمے کے طور پر ہوا تھا تاہم پھر یہ تقاریب اور تہواروں اور جشنوں کے موقع پر ہونے لگا۔ اس میں مقررہ اشعار پڑھے جاتے ہیں اور پھر تلواروں کے ساتھ مخصوص حرکات کے ساتھ رقص کیا جاتا ہے۔ اس میں مختلف اقسام کے طبل استعمال ہوتے ہیں جب کہ رقص کرنے والے بھی خاص قسم کا لباس زین تن کرتے ہیں۔

دوسری: العرضہ کا رقص مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کی فتوحات کے ساتھ مربوط ہے۔ عرضہ میں طبلِ حرب اور حربی آہنگ کا استعمال اور تلواروں کا نمایاں کیا جانا ،،، یہ لڑائی کے واسطے انفرادی مشق کا مظہر ہے۔

تیسری: العرضہ کے رقص متعدد ادیبوں اور مؤرخین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ایک بڑے ادیب عباس العقاد نے اپنی کتاب 'مع عاهل الجزيرة العربية' (جزیرہ عرب کے فرماں روا کے ساتھ) میں لکھا ہے کہ "شاہ عبدالعزیز کو سب سے پیارا کھیل وہ حربی رقص تھا جو نجدی لوگ لڑائی کے میدان کی جانب جاتے ہوئے کیا کرتے تھے۔ یہ پُر رعب رقص دلوں میں گرمی پیدا کر دیتا ہے"۔

چوتھی: سعودی عرضہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس پر 'کورل' کا غلبہ ہے جس میں مخصوص اشعار کو دہرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد رقص انجام دیا جاتا ہے۔ اس دوران ہاتھوں میں تلواروں کو بلند کر کے دائیں یا بائیں جانب رخ کیا جاتا ہے۔ رقص کرنے والے چند قدم آگے بھی جاتے ہیں۔ عام طور پر اشعار پڑھنے والے ایک صف میں ہوتے ہیں۔ اس میں مختلف حجم کے طبل استعمال ہوتے ہیں۔