.

امن کے لیے کہیں بھی مداخلت کرسکتے ہیں: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے کہا ہے کہ ’ایران امن کے حصول کے لیے کہیں بھی مداخلت کر سکتا ہے۔ شام اور یمن کو دیکھ لیں‘۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور ایران کو شام، عراق، یمن اور لبنان میں لاکھوں افراد کی ہلاکتوں اور کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہونے، قتل و غارت گری اور تباہی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر نے جمعہ کو اپنے بیانات میں کہا تھا "امن کے لیے جہاں بھی ضروری ہوا۔ ہم مداخلت کریں گے، یمن اور شام کو دیکھیں۔"

ویانا بات چیت

دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کل جمعہ کو کہا کہ ان کا ملک فی الحال ویانا مذاکرات میں واپسی پر غور کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ تہران مذاکرات اور ان کے نتائج میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتا۔

ایرانی ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک بیان میں امیر عبداللہیان نے مزید کہا: "اگرچہ ہم ویانا مذاکرات میں واپسی کے قریب ہیں، ہمیں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور مذاکرات کے نتائج کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔"

امیر عبداللہیان نے دو روز قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل سے ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی تھی کہ "نئی حکومت اب تک کی موجودہ مذاکرات کی فائل کا جائزہ لے رہی ہے۔ ہم وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کھوکھلے وعدوں سے ہم بات چیت کو موخر کرنا چاہتے ہیں۔

کئی مغربی سفارت کاروں نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ایران نے کوئی مخصوص تاریخ یا دیگر تفصیلات بتائے بغیر صرف ویانا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مغربی حکام کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ کے مذاکرات میں جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے سیاسی معاون کے عہدے سے عباس عراقجی کی برطرفی کے بعد نئی ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک رکن فدا حسین ملکی نے جمعرات کو کہا تھا کہ جوہری معاہدہ حکومت کی ترجیح نہیں ہے۔