.

جلبوع جیل سے فرار روکنے کے لیے اسرائیل کا نیا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے ہفتہ قبل ہائی سکیورٹی جیل سے چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار کے پس منظر میں 37 ملین شیکل (تقریبا 2 ملین ڈالر) کی لاگت سے جلبوع جیل کی سیکیورٹی سسٹم میں بہتری اور اس کے انجینیرنگ اسٹرکچر میں تبدیلی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

عبرانی چینل 12 کے مطابق جلبوع جیل میں اسرائیل کی جانب سے اصلاحات اور انجینیرنگ میں ترمیم کا مقصد قیدیوں کو نئی سرنگیں کھودنے اور ان کے ذریعے فرار ہونے سے روکنا ہے۔

عبرانی چینل نے مزید کہا کہ جلبوع جیل کے کمروں کے نیچے خالی جگہوں پر کنکریٹ کوبھرا جائے گا۔ چھ فلسطینی قیدیوں کے اس جیل سے فرار کے بعد اسرائیلی فوج کی نگرانی میں انجینیرنگ ٹیموں نے جیل کی بنیادیوں تلے ایسے خالی مقامات کا معائنہ کیا جنہیں ممکنہ طور پر سرنگوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ چھ ستمبر 2021ء کو انتہائی سیکیورٹی کی حامل جلبوع جیل سے چھ فلسطینی قیدی فرار ہوگئے تھے۔ انہوں نے جیل کے فرش کے نیچے سرنگ کھودی جس کی مدد سے وہ فرار ہوئے تاہم انہیں چند روز کےبعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

جدید مانیٹرنگ سسٹم

جیل کے ڈھانچے میں ترمیم کے منصوبے میں اس کے ارد گرد ایک اضافی دیوار بنانا اور فرار کی کسی بھی نئی کوششوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کی تنصیب بھی شامل ہے۔

عبرانی چینل کے مطابق فرار کے نئے ذرائع اور نئے نئے طریقے ہیں مگر اصل آزمائش یہ ہے کہ اگلے فرار آپریشن سے قبل ان کا پتا کیسے چلایا جائے اور فرار کی کسی نئی کوشش کو کیسے ناکام بنایا جائے؟۔

تحقیقاتی کمیٹی

اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی عمر بار لیف نے چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار کی تحقیقات کے لیے ایک حکومتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

بار لیف کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جج میناچم فنکل سٹائن کریں گے جو اس سے قبل ڈسٹرکٹ کورٹ کے ڈپٹی چیف اور ملٹری پراسیکیوشن کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اس کمیٹی میں عسقلان اکیڈمک کالج کے ایک کرمنولوجسٹ پروفیسر افراط شہام اور شن بیٹ کے سابق عہدیدار ایرک باربنگ بھی شامل ہوں گے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کمیٹی کب سے کام کرے گی۔