.

سعودی عرب کے ٹرین وارڈن کی 45 سال بعد کیبن میں واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک سابق ٹرین وارڈن "صالح العید" نے مملکت میں ریلوے کے قیام کے آغاز میں اس کے ساتھ کام شروع کیا تب ان کی عمر صرف 16 سال تھی۔ اس وقت ان کی عمر 91 سال ہے اور وہ ایک بار پھر ٹرین کے کیبن میں تشریف لائے اور ٹرین کے لیے ایک وارڈن کے طور پر اپنی سروسز کی تفصیلات بیان کیں۔

العید نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹرین وارڈن کے 16 سال کی عمر میں ریلوے کے قیام سے کیا۔ انہوں نے 30 سال تک ریلوے میں خدمات انجام دیں۔ ریلوے میں اپنی سروس کی مدت کے بارے میں صالح عید کا کہنا تھا کہ میں نے مسافروں کے ساتھ گھل کر رہنے ان سے مخاطب ہونے کا طریقہ ایجاد کیا۔ میں نے ایک اصول وضع کیا کہ ریلوے کی طرف سے غلطی کا بوجھ مسافر پر نہ ڈالا جائے اور مسافر کی غلطی کی ذمہ داری انتظامیہ پر عاید نہ کی جائے۔

سابق وارڈن "عید" نے کہا کہ ٹرین اسٹیشن کے سامنے کھڑی ہوتی تھی۔ مسافر اس کی طرف چلتے۔ اسٹیشن کا ایک عام ایئر کنڈیشنڈ کمرے پر مشتمل دفتر ہوتا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ میرا کام آخری بوگی سے شروع ہوتا۔ مسافروں سوار کرنا اور ان کے ٹکٹ چیک کرنا ہوتا۔

سابق ٹرین وارڈن نے ماضی اور موجودہ ٹرین سروس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اب نظام کافی بدل گیا ہے۔ فون پرلوگ ٹکٹ بک کرا دیتے ہیں۔ آن لائن ٹکٹ مل جاتا ہے۔ٹرینوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔

صالح العید نے اپنے پیغام میں ریلوی ملازمین پر زور دیا کہ وہ مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، بزرگ مسافروں کی والدین کی طرح عزت دیں اور مسافروں کو بھائی سمجھیں۔