عراق میں ایرانی سفیر کی عراقی کردستان پر حملے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں ایرانی سفیر ایراج مسجدی نے عراق کے صوبہ کردستان کے علاقوں کو نشانہ بنانے اور فوجی آپریشن کرنے کی دھمکی دی ہے۔

مسجدی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر بغداد یا اربیل ایرانی اپوزیشن کی طرف سے کردستان کی زمین کو ہمارے خلاف استعمال سے روکنے سے قاصر ہیں تو تہران حزب اختلاف کی مخالف تنظیموں کے خلاف خود فوجی آپریشن کرے گا ، چاہے وہ عراق میں ہی کیوں نہ ہو۔

ایران کے عراق میں سفیر نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی عراق میں "امریکا اور اسرائیل نے اڈے" بنا رکھے ہیں۔

اس تناظر میں پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے کہا کہ امن کے لیے ایران کہیں بھی کارروائی کرسکتا ہے۔ ان کے اس بیان پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس وزیر کی دھمکی شام ، عراق ، یمن اور لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کھلا ثبوت ہے۔ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ ایران کی مداخلت کے نتیجے میں مسلمان اور عرب ملکوں میں کروڑوں لوگ بے گھر ہوگئے اور لاکھوں اموات کا ذمہ دار بھی ایران ہے۔

پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ "امن کے لیے ہم کہیں بھی مداخلت کرسکتے ہیں۔ یمن اور شام کو دیکھیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں