.

سرحد پار اپنے دفاع کے لیے 6 فوجیں قائم کر رکھی ہیں: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سینیر فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہےکہ تہران نے سرحدوں سے باہر اپنے دفاع اور مفادات تحفظ کے لیے چھ فوجیں قائم کر رکھی ہیں۔

ایران کے ’خاتم الانبیا‘ بریگیڈ کے کمانڈر علی غلام رشید نے کا یہ بیان ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے نقل کیا ہے۔ خاتم الانبیا بریگیڈ میں ہونے والی ایک تقریب سےخطاب میں علی غلام رشید نے کہا کہ مقتول قاسم سلیمانی اپنی موت سے تین ماہ قبل ایران کی سرزمین سے باہر چھ فوجیں قائم کردی تھیں۔ ان فوجوں کو ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اور ایران کی مسلح افواج کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل ہے۔

ایرانی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ ایران کے وفادار یہ لشکر اگرچہ سرحدوں سے باہر ہیں مگر وہ ایران کے نظریات اور عقائد سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ان کی اہم ذمہ داری کسی بھی حملے میں تہران کا دفاع کرنا ہے۔

سمندر پار ایران کی محافظ فورسز کون؟

ایرانی عہدیدار علی غلام رشید نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک ان کی محافظ فورسز میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ، فلسطین کی حماس اور اسلامی جہاد، شام کی سرکاری فوج، عراق کی الحشد ملیشیا اور یمن کی حوثی ملیشیا تہران کے لیے بیرون ملک محافظ افواج میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی نے اپنے قتل سے تین ماہ قبل اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایران کی سرزمین سے باہر ملک کے دفاع کے لیے چھ افواج تشکیل دے دی ہیں۔

خیال رہے کہ تین جنوری 2020ء کوبغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکا نے ایک خصوصی فضائی آپریشن میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کو ہلاک کردیا تھا۔

حماس اور حوثی ملیشیا بارے ایران کا سرکاری اعتراف

مبصرین کا خیال ہے کہ علی غلام رشید کا خطے میں اپنی حامی ملیشیاؤں کا نام لے کر ان کا تذکرہ کرنا دراصل تہران کا سرکاری سطح پر اپنی وفادار ملیشیاؤں کی فنڈنگ کا اعتراف کرنا ہے۔

ایک طرف ایران یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تہران یمن یا کسی دوسرے عرب ملک میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہا ہے مگر دوسری طرف وہ اپنے وفادار گروپوں کا نام لےکر انہیں اپنی محافظ فوج قرار دیتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ تہران یمن میں حوثی ملیشیا کی عسکری رہ نمائی کے لیے فوجی مشیر بھیج چکا ہے۔

یمن کی آئینی حکومت کی طرف سے ایرانی عہدیداروں کے بیانات کو کھلی مداخلت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے لیے عسکری مشیروں کی معاونت کا ایرانی دعویٰ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ یمن میں حوثیوں کی بغاوت کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ ایران یمن میں مسلسل مداخلت کرکے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

رواں سال مئی میں ایران کے ایک عہدیدار نے اعتراف کیا تھا کہ تہران حماس کو ہرماہ کروڑوں ڈالر کی رقم فراہم کر رہا ہے۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کی آمدن فلسطینی تنظیم حماس کو جاتی ہے۔

رواں سال مئی میں جب غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے حملوں کے بعد جنگ بندی کی تو حماس کے لیڈر اسماعیل ھنیہ نے ایران اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کا جنگ میں تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے عرب ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو میں مدد کریں۔

شام اور عراق

شام کی سر زمین پر ایران نواز ملیشیاؤں کے جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ شام میں البوکمال، دیر الزور اور المیادین میں ہزاروں ایران نواز جنگجو تعینات ہیں۔ یہ شامی فوج کے علاوہ ہیں۔

امریکی انتظامیہ بار بار الزام عاید کر چکی ہے کہ عراق میں بعض مسلح گروپ ایران کے لیے کام کر رہے ہیں۔ عراق میں بین الاقوامی ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں میں ملوث گروپوں میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں شامل بتائی جاتی ہیں۔ امریکا ان گروپوں پر بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملوں کی ذمہ داری بھی عاید کر چکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بغداد میں امریکی سفارت خانے پر کاتیوشا راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس کی ذمہ داری ایرانی حمایت یافتہ گروپوں پر عاید کی گئی۔