.

عراق: گرفتاری کے وارنٹس کے بعد اربیل کانفرنس کے شرکاء کا اظہار لا تعلقی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر اربیل میں چند روز قبل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے متعلق کانفرنس کے شرکاء نے بظاہر اس موقف سے لا تعلقی کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت کانفرنس کے حوالے سے کھڑے ہونے والے ہنگامے اور عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے شرکاء کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس جاری ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس لاتعلقی کی مہم کا آغاز سابق عراقی رکن پارلیمنٹ مثال الالوسی نے کیا جن کے خلاف گذشتہ روز وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکا ہے۔ الالوسی اسرائیل کا اعلانیہ دورہ کرنے والے پہلے عراقی سیاست دان ہیں۔ یہ دورہ امریکیوں کے ہاتھوں صدام حسین کی حکومت ختم کیے جانے کے تقریبا ایک برس بعد کیا گیا تھا۔ اگرچہ الالوسی یہ بات دہرا چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام پر یقین رکھتے ہیں تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حالیہ کانفرنس سے ان کا کسی بھی صورت کوئی تعلق ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق اس مہم میں دوسرا نام وسام الحردان کا ہے۔ وہ انبار صوبے کے ایک قبائلی شیخ ہیں۔ الحردان نے حالیہ کانفرنس میں اختتامی بیان پڑھ کر سنایا تھا۔ اس بیان کے ایک پیراگراف میں اسرائیل کے ساتھ نارمل تعلقات کو خاص طور سے ذکر کیا گیا۔

الحردان نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا جس میں امن کے قیام اور یہودیوں کے مال اور املاک کو واپس کیے جانے پر زور دیا گیا۔ تاہم الحردان کے مطابق وہ اس وقت حیران رہ گئے جب ان سے اختتامی بیان پڑھنے کی درخواست کی گئی اور بیان کے ایک پیراگراف میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام پر بات کی گئی تھی۔

دوسری جانب عراقی کردستان حکومت کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر جوتیار عادل نے واضح کیا ہے کہ جو کچھ اربیل کانفرنس میں پیش کیا گیا وہ کردستان حکومت کا موقف نہیں ہے، حکومت آئین کی پابند ہے جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ خارجہ پالیسی کا تعین کرنا خاص طور پر وفاقی حکومت کا معاملہ ہے۔

یاد رہے کہ گرفتاری کا تیسرا وارنٹ عراقی وزارت ثقافت کی خاتون اہل کار سحر الطائی کے خلاف جاری ہوا تھا۔

جمعے کے روز اربیل میں منعقد ہونے والی کانفرنس قبائلی شیوں اور عمائدین سمیت 300 سے زیادہ عراقی شخصیات نے عراق اور اسرائیل کے درمیان نارمل تعلقات پر زور دیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کال تھی جس نے سرکاری سطح پر مذمت کا دروازہ کھول دیا۔