.

غزہ میں مئی جنگ میں تباہ شدہ گھروں کی تعمیرِنو کا اکتوبر کے اوائل میں آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں مئی میں حماس کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی فوج کی بمباری میں تباہ شدہ یا جزوی نقصان کا شکار ہونے والے گھروں کی تعمیرنو کا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں آغاز ہوگا اور یہ تعمیراتی کام خلیجی ریاست قطر کی مہیاکردہ امداد سے کیا جائے گا۔

غزہ میں حماس کے زیرانتظام حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے گیارہ روزہ کے دوران میں فضائی حملوں میں قریباً 2200 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے اور 37 ہزار مکانوں کوجزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا جبکہ حماس اور غزہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے راکٹ حملوں سے اسرائیل میں معدودے چند گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔

غزہ کے نائب وزیر برائے مکانات اور پبلک ورکس ناجی سرحان کے مطابق تعمیراتی منصوبہ کے پہلے مرحلے میں قریباً 1800 تباہ شدہ گھروں کی تعمیرنو کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اسٹیل اور سیمنٹ کے غزہ میں داخلے پرعاید کچھ پابندیاں ختم کردی ہیں۔گذشتہ ہفتے مصر نے غزہ کی ایک اہم ساحلی شاہراہ کی مرمت شروع کی تھی جو غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے وسیع ترمنصوبے کا حصہ ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں 66 بچوں سمیت 250 سے زیادہ افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ اسرائیل میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں دو بچّوں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مصر کی ثالثی میں 21 مئی کوجنگ بندی ہوئی تھی ۔اس کے بعد سے حماس تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیرِنو کے لیے فنڈز اورعمارتی سامان تک رسائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اسرائیل نے علاقے میں تعمیراتی سامان کا داخلہ محدود کررکھا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ حماس اس سامان کواسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے ہتھیار بنانے کی غرض سے استعمال کرسکتی ہے۔

لیکن اقوام متحدہ اور قطرکے ساتھ معاہدے کے بعد اسرائیل نے رواں ماہ خلیجی ریاست سے قریباً دوکروڑڈالر کی امداد غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔ناجی سرحان کا کہنا ہے کہ غزہ میں گھروں کی تعمیرنو کے لیے قطری فنڈزمیں سے پانچ کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی جائے گی۔

حکام نے تخمینہ ظاہرکیا ہے کہ غزہ میں مئی کی جنگ میں تباہ شدہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرنو پر47 کروڑ 90 لاکھ ڈالرلاگت آئے گی۔ قطراورمصر نے غزہ کی تعمیرِنو کے لیے 50،50 کروڑ ڈالرامداد کے طور پر دینے کا وعدہ کیا ہے۔