.

تبوک کے ’اوپن ایئر میوزیم‘ کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی شہر تبوک پہاڑی چٹانوں پر ہزاروں سال پرانے نقوش اور تصاویر ماہرین آثار قدیمہ اور سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز رہتی ہیں۔ یہ نقوش ہی نہیں بلکہ اپنی نوعیت کا ایک اوپن ایئر میوزیم ہے جس کا وزٹ کرنا ہزاروں سال پرانے انسانی بود وباش کی جان کاری حاصل کرنا ہے۔

ماہر آثار قدیمہ عبدالالہ الفارس کا کہنا ہے کہ تبوک کے چٹانوں پر موجود آثار، نقوش اور تصاویر ماہرین کی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

الفارس کا کہنا ہے کہ پتھروں پر بنائے گئے نقوش ہزاروں سال پرانے انسانی ماحول، تاریخ، ان کی ثقافتی سرگرمیوں اور علاقے کی طرز زندگی کا پتا دیتے ہیں۔

راک ڈرائنگ کی اہمیت

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عبدالالہ الفارس نے کہا کہ تبوک کے پہاڑوں میں بنائے خاکے، نقوش اور تصاویر انسانی تاریخ کا ایک اہم ماخذ ہے۔ ان خاکوں اور تصاویر کو دیکھ کرہمیں ما قبل تاریخ، پتھر کے دور، برونز اور ہزاروں سال پرانے دور کے طرز زندگی،اس وقت کے کلچر، مذہب اور معیشت کا پتا چلتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہزاروں سال قبل بھی انسان فطری طور پر آرٹ میں گہری دلچسپی نہیں بلکہ اس میں مہارت بھی رکھتا تھا۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ان خاکوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ یہاں سے کتابت کی بنیاد پڑی ہوگی۔ بعض ماہرین تو اسے بھی کتابت ہی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔

پتھروں پر ڈرائنگ

انہوں نے بتایا کہ ان جگہوں میں مختلف قسم کے مخصوص چٹانوں پر ڈرائنگ پائی گئی ہے۔ اس ڈرائنگ میں دیکھے جانے والے خاکوں میں بیشتر شکار اور سفر کے مناظر ہیں جب کہ مختلف جانداروں کی علامتیں بھی بنائی گئی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تبوک میں راک فن کا مطالعہ بہت اہم ہے، کیونکہ یہ جزیرہ نما عرب کے شمال میں رونما ہونے والی بڑی معاشی اور ثقافتی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان مویشیوں کے علاوہ خطے میں معدوم جانوروں سے کیسے نمٹتے ہیں۔ اونٹ، گھوڑوں کی افزائش اور شکار کے مناظر اور عکاسی موجود ہے۔

یہ جنگلی جانوروں کی دنیا اور شکار کے ذریعے اس کے ساتھ انسانی تعلقات کو بھی واضح کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدیم چٹانوں پر نقوش تبوک کے کئی مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ نقوش اس خطے میں رہنے والی مختلف انسانی نسلوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔