.

سعودی عرب : العُلا رائل کمیشن کا مادہ "عربی تیندوے" کی پیدائش کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں 'العُلا رائل کمیشن' نے ایک اور "مادہ" عربی تیندوے کی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔ یہ معدومیت کے خطرے سے دوچار عربی تیندوے کی نسل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ مادہ تیندوے کی پیدائش رواں سال 23 اپریل کو ہوئی تھی۔ اس کی جنس کا تعین اور پہلا طبی معائنہ 13 جولائی کو ہوا۔ اس کے بعد نومولود تیندوے کو 'پرنس سعود الفیصل وائلڈ لائف ریسرچ سینٹر' کے ایک پروگرام کے تحت اکٹھا کیے گئے عربی نسل کے تیندوؤں میں شامل کر دیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد تیندوے کی عربی نسل کو معدومیت سے بچانا ہے۔

العُلا رائل کمیشن کے چیف ایگزیکٹو انجینئر عمرو المدنی نے مادہ عرب تیندوے کی پیدائش پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عربی تیندوؤں کو معدومیت سے بچانا انتہائی اہم امر ہے۔ یہ زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی نظم کے قدرتی توازن کی واپسی کے لیے ضروری ہے۔

بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت IUCN کے مطابق عربی تیندوے کا شمار اُن جانوروں میں ہوتا ہے جن کو معدومیت کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔ اس وقت عربی تیندوؤں کی تعداد 200 سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کا سبب ان تیندوؤں کے لیے قدرتی مقامات کا فقدان اور برسوں سے جاری ظالمانہ شکار ہے۔

عربی نسل کے تیندوے کے تحفظ کے لیے العلا روئل کمیشن نے مختلف نوعیت کے متعدد منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ ان میں عربی تیندوے سے متعلق خصوصی مرکز کے علاوہ ایک خصوصی فند بھی شامل ہے۔ اس فنڈ کے لیے روئل کمیشن نے 2.5 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔

مزید برآں العُلا کے 80% رقبے کو قدرتی مقامات میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 1560 مربع کلو میٹر کے رقبے پر نباتات اور حیوانات کو پھیلایا جائے گا۔