.

بیت المقدس: اسرائیلی پولیس نے مبینہ چاقو حملے پر فلسطینی خاتون کو قتل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس کے اندرون شہر میں ایک فلسطینی خاتون کو مبینہ طور پر چاقو سے حملہ آور ہونے کے بعد گولی مار کر شہید کر دیا۔

اسرائیلی پولیس کے سرکاری بیان کے مطابق مبینہ حملہ آور خاتون نے مسجد اقصیٰ کو جانے والے راستے پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملے کی کوشش کی جس کے بعد انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ موقع پر موجود ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے منسلک صحافی کے مطابق انہوں نے گولیوں کی آواز سنی اور اس کے بعد انہیں زمین پر ایک خاتون بے سدھ گری ہوئی نظر آئی۔

اسرائیلی پولیس کے بیان کے مطابق پولیس کی فائرنگ کے بعد طبی عملے کی آمد تک خاتون جانبر نہ رہ سکی تھی۔ مبینہ چاقو حملے میں کسی اسرائیلی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔

پولیس کے مطابق تقریبا 30 سالہ فلسطینی خاتون مسجد اقصیٰ سے واپس جا رہی تھی کہ اس نے اچانک پولیس والوں کی طرف رخ کر لیا۔

مسجد اقصیٰ کا احاطہ مشرقی بیت المقدس میں آتا ہے جو کہ 1967 کی جنگ کے معاہدے کے مطابق فلسطینیوں کے زیر انتظام ہے اور اسرائیل نے بعد میں اسے اپنے زیر انتظام کر لیا۔ اس اقدام کو بین الاقوامی برادری درست تسلیم نہیں کرتی۔

اس سے قبل ماہ مئی کے دوران فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان مسجد اقصیٰ میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجےمیں 11 روز تک غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری رہی تھی۔

حال ہی میں اتوار کے روز اسرائیلی فوج کی جانب سےچھاپوں کے دوران مزاحمت پر پانچ فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔