.

شام کے ساتھ قربت کے لیے اردن کی خفیہ دستاویز کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی ایک خفیہ سرکاری دستاویز کا انکشاف ہوا ہے جس میں شام کے ساتھ معاملات کے لیے نئی قربت کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے بیچ تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز اور چند روز قبل دمشق کے ایک وزارتی وفد کے عمّان کے دورے کے بعد سامنے آئی ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق ایک اعلی سطح کے مغربی ذمے دار نے جو مذکورہ دستاویز کے خیالات سے آگاہ ہیں، بتایا ہے کہ یہ دستاویز گزرے عرصے میں عرب قیادت کے بیچ زیر بحث آ چکی ہے جن میں اردن کے فرماں روا شاہ حسین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ رواں سال جولائی میں امریکی صدر جو بائیڈن اور اگست میں روسی صدر ولادی میر پوتن بھی اس دستاویز کے مندرجات جان چکے ہیں۔

ذمے دار کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں اردن کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی اس نئی قربت کے ضمن میں ہے۔

مغربی ذمے دار نے واضح کیا کہ مذکورہ دستاویز میں ایک نئی مقاربت کی تجویز دی گی ہے جس کے نتیجے میں سیاسی حل کارگر ہو، انسانی بحران کا علاج ہو اور دہشت گردی کے خلاف توجہ مرکوز رکھ کر شام میں بڑھتے ہوئے ایرانی نفوذ کو لگام دی جائے۔ اس نئی مقاربت کا مقصد ایسے محرکات پیش کرنا ہیں جو شام کے عوام کے لیے مثبت عکاسی کرے اور پناہ گزینوں اور بے گھر شامیوں کی واپسی عمل میں آ سکے۔ البتہ دستاویز میں مذکورہ امور پر عمل درامد کے حوالے سے کوئی نظام الاوقات نہیں دیا گیا۔

یاد رہے کہ دمشق کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے ابھی تک عرب ممالک کا اجماع نہیں ہو سکا ہے۔ سال 2012ء کے اواخر میں عرب لیگ میں شام کی رکنیت کو منجمد کر دیا گیا تھا۔ کئی عرب ممالک دمشق کی واپسی کو اس بات سے مربوط کرتے ہیں کہ پہلے شام سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 کے مطابق ایک سیاسی حل کو لاگو کرے۔ اس کے تحت شام کی یک جہتی کو برقرار رکھا جائے گا اور غیر ملکی ملیشیاؤں کو وہاں سے کوچ کر جانا ہو گا۔