.

قطر کے پہلے عام انتخابات میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری، خواتین امیدواروں کی تعداد بہت کم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی 45 نشستوں والی پہلی شوریٰ کونسل میں 30 اراکین کے انتخاب کے لیے آج بروز سنیچر دو اکتوبر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ بقیہ 15 اراکین کو امیر قطر خود نامزد کریں گے۔ خواتین امیدوار بہت کم تعداد میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ شام تک شوری کونسل کے لیے منتخب اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔

شوریٰ کی 30 سیٹوں پر 284 امیدواران کے درمیان مقابلہ ہے جن میں 28 خواتین بھی شامل ہیں۔ شوریٰ کی بقیہ 15 نشتوں پر ارکان کی نامزدگی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کریں گے۔

خلیج، جہاں کے بیشتر ملکوں میں شہنشایت ہے، قطر کے اس انتخاب کو ایک علامتی جمہوری قدم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ منتخب شوری کونسل کے پاس محدود اختیارات ہوں گے۔ ماضی میں شوری کونسل کی تقرری امیر قطر خود کرتے تھے اور اس کے اختیارات صرف مشاورت تک محدود تھے۔ کویت واحد ملک ہے جہاں ایک مکمل منتخب پارلیمان ہے۔

قطر کے شہروں میں مختلف مقامات پر پوسٹر دیکھے جاسکتے ہیں جن میں امیدواروں نے لوگوں سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیلیں کی ہیں۔ امیدواروں نے ٹاؤن ہال میٹنگیں بھی کیں اور ٹی وی پر اشتہارات بھی دیے۔ تاہم سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ پہلا الیکشن ہے اس لیے کسی حکومت کی تبدیلی یا کسی سیاسی پارٹی کے خلاف مہم دیکھنے کو نہیں ملی۔

مبصرین کے مطابق ان انتخابات کے نتیجے میں قطر میں طاقت کا محور تبدیل نہیں ہوگا اور آل ثانی خاندان ہی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھے گا۔ قطری حکومت کی جانب سے ان انتخابات کا انعقاد جمہوری نظام کی قبولیت کا علامتی اشارہ ہے۔

شوریٰ کو قوانین کی تجویز پیش کرنے، بجٹ منظور کرنے اور وزیروں کو واپس بلانے کی اجازت ہوگی۔ لیکن دنیا کے قدرتی گیس ایکسپورٹ کرنے والے سب سے بڑے ملک، قطر، کے امیر کو کسی بھی فیصلے پر ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

الیکشن میں ایک امیدوار لینا الدفاء کا کہنا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوتی ہیں تو خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے، خواتین ٹیچروں کی مدد کرنے اور قطری خواتین کے بچوں کی شہریت جیسے امور کو حل کرانے کو ترجیح دیں گی۔

قطر میں ابھی شہریت بچوں کو صرف ان کے باپ کی نسبت سے ملتی ہے۔ یعنی اگر کوئی قطری خاتون کسی دوسرے ملک کے شہری سے شادی کرتی ہے تو اس کے بچے کو قطری شہریت نہیں ملے گی۔

مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ قطر نے شوری کے انتخابات کا فیصلہ اس لیے بھی کیا ہے کیونکہ وہ اگلے برس فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کرے گا۔

قطر نے سن 2007 میں شوریٰ کونسل کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تاہم ووٹنگ ملتوی ہوتی رہی۔ قطر میں پہلے میونسپل انتخابات 1999میں ہوئے تھے۔

قطر کی 25 لاکھ آبادی میں بیشتر غیر ملکی ہیں اور انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہو گا۔ قطر کی مقامی آبادی تقریبا 3 لاکھ 33 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں صرف ایسے امیدواروں کو ہی الیکشن میں حصہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے جن کا خاندان یا قبیلہ سن 1930کی دہائی سے وہاں آباد ہے۔ اس فیصلے کی وجہ ایک قبیلے کے کچھ افراد ووٹ نہیں ڈال سکے جس پر کچھ تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔