.

فلسطینی مہاجرین کی امداد کی ذمہ داراقوام متحدہ کی ایجنسی کوبجٹ بحران کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مہاجرین کی مدد وبحالی کی ذمے دار اقوام متحدہ کے تحت ایجنسی اُنروا کو’’وجودی‘‘بجٹ بحران کا سامنا ہے۔ادارے نے فلسطینی مہاجرین کی ضروری تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور دیگربنیادی خدمات کو جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر 12 کروڑ ڈالرکےعطیات کی اپیل کی ہے۔

اُنروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ ’’موجودہ مالی صورت حال تنظیم کے لیے ایک حقیقی وجودی خطرہ ہے۔ہمیں اس کوکم نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اس سے تنظیم کو اپنی خدمات کے دائرہ کارمیں کمی لاناپڑسکتی ہے۔ اگرایساہوتا ہے تو ہمیں بہت جلدادارے کے سقوط کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔‘‘

لازارینی نے وضاحت کی کہ فی الوقت ایجنسی کی 550,000 بچّوں کو اسکولوں میں تعلیم جاری رکھنے، ہزاروں افراد کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کرنے اور نومبراوردسمبر میں اپنے 28,000 ہزار ملازمین پر مشتمل عملہ کی تنخواہیں ادا کرنے کی صلاحیت داؤ پر ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اُنروا) کا قیام 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت جنگ کے دوران میں مہاجرہونے والے یا اپنے گھروں سے جبری بے دخل کیے گئے سات لاکھ فلسطینیوں کو تعلیم، علاج ومعالجے کی سہولت، خوراک اور دیگر خدمات مہیا کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔

لازارینی کا کہنا تھا کہ ’’ایجنسی کے عہدے داروں پر فی الوقت یہ واضح نہیں کہ آیا ہم نومبر اوردسمبر میں اپنی سرگرمیاں برقراررکھ سکیں گے۔‘‘

انھوں نے امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے2018ء میں اُنروا کے لیے تمام عطیات روکنے کا ذکر کیااور ایک بڑے عطیہ دہندہ کے طورپرامریکا کی اہمیت پر زور دیا۔واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی میں اُنرواکے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 23۰5 کروڑ ڈالر کی امداد بحال کردے گی۔

لیکن لازرانی نے کہا کہ کووِڈ-19 کی وبا کے معاشی اثرات کے نتیجے میں دیگرعطیہ دہندگان کی جانب سے امدادی رقوم میں کمی واقع ہوئی ہے اور مشرق اوسط میں ممکنہ عطیہ دہندگان کے بارے میں ابھی کوئی معلومات نہیں۔اس تناظرمیں امریکا کی مہیا کردہ رقم خرچ ہوچکی ہے۔

انھوں نے برطانیہ کے بیرون ملک امدادی بجٹ میں جی ڈی پی کے 0.7 فی صد سے 0.5 فی صد تک کمی اوراُنروا کے لیے عرب ممالک کی جانب سے دی جانے والی امداد میں کمی کی طرف اشارہ کیا۔2018ء میں ان ممالک نے 20 کروڑ ڈالر دیے تھے۔2019ء میں یہ امدادی رقم کم ہوکر قریباً آٹھ کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور 2020 میں صرف تین کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہ گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اُنروا کی غیریقینی فنڈنگ سے فلسطینی پناہ گزینوں میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ ایجنسی کی ’زندگی جاری رکھنے‘کی مہم کم زورپڑ سکتی ہے اورعالمی برادری میں انھیں فراموش کیے جانے کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔

لازارینی نے بتایا کہ اس رجحان کوتبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر سویڈن اوراردن نومبرکے وسط میں برسلز میں ایک امدادی کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔اس کا بنیادی مقصد ایجنسی کی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے مزید رقوم جمع کرناہے۔

اُنروااپنی ’’بنیادی‘‘سرگرمیوں یعنی تعلیم، حفظانِ صحت اورسماجی تحفظ کے لیے تین سال تک سالانہ 80 کروڑڈالرمہیا کرنے کی اپیل کررہی ہے۔ایجنسی کے ایک علاحدہ ہنگامی بجٹ سے غزہ اورشام میں انسانی امداد کی سرگرمیوں کے لیے رقوم مہیا کی جاتی ہیں۔ اس سال یہ بجٹ قریباً 50 کروڑڈالر تھا اور2022 ء میں بھی اس کی مالیت اتنی ہی ہوگی۔

اس وقت 57 لاکھ فلسطینی مہاجرین غزہ کی پٹی ، غرب اردن اور پڑوسی ممالک میں مقیم ہیں۔ان میں اوّلین فلسطینی مہاجرین کے بچے اور پوتے، پوتیاں بھی شامل ہیں لیکن فلپ لازارینی نے بتایا کہ اُنروا صرف اسکولوں میں 550,000 طلبہ وطالبات کی تعلیم کا بندوبست کرتی ہے اور28 لاکھ فلسطینیوں کو طب وصحت کی خدمات مہیا کی جاتی ہیں۔