.

ویانا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایران کی 10 ارب ڈالر آزاد کرنے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ امریکی ذمے داران نے گذشتہ ماہ ویانا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت کی کوشش کی تھی تاہم ایرانی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے واشنگٹن حسنِ نیت کی علامت کے طور پر تہران کی منجمد رقم سے 10 ارب ڈالر آزاد کرے۔

ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ رواں سال جون میں رک گیا تھا۔ سال 2015ء میں طے پانے والے سمجھوتے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز سرکاری ٹی وی کو دیے گئے بیان میں مزید کہا کہ امریکا نے گذشتہ ماہ رابطوں کی کوشش میں اقوام متحدہ میں وساطت کاروں کی مدد حاصل کی۔

ایران کے بینکنگ اور توانائی سیکٹروں پر امریکی پابندیوں کے سبب ایران غیر ملکی بینکوں میں اپنے مالی اثاثوں بالخصوص تیل اور گیس کی برآمد سے حاصل آمدنی میں سے اربوں ڈالر حاصل کرنے سے محروم ہو گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ میں وساطت کاروں کو آگاہ کر دیا تھا کہ اگر امریکا اپنے ارادے میں سنجیدہ ہے تو وہ منجمد مالی رقوم سے کم از کم 10 ارب ڈالر آزاد کر کے ایک سنجیدہ اشارہ دے۔

اس سے قبل انگریزی جریدے "پولیٹیکو" نے کہا تھا کہ ویانا بات چیت کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے امریکی کیمپ میں "نا امیدی" پائی جاتی ہے۔ مغربی سفارت کاروں کے مطابق ایران "وقت حاصل کرنے کے لیے کھلواڑ" کر رہا ہے۔