.

اردن نے ’پنڈورا پیپرز‘میں’مسخ شدہ‘دعووں کومسترد کردیا

جائیدادوں کے پتےظاہر کرنا سکیورٹی کی کھلی خلاف ورزی،شاہ عبداللہ اوران کے خاندان کے تحفظ کو خطرات لاحق ہوگئے:شاہی دیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہی دیوان نے’پنڈورا پیپرز‘میں کیے گئے ان دعووں کو’مسخ شدہ‘قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ شاہ عبداللہ دوم نے بیرون ملک 10 کروڑ ڈالرمالیت کی جائیداد بنانے کے لیے آف شورکمپنیوں کا نیٹ ورک بنارکھا ہے۔

شاہی دیوان نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ان پیپرزمیں خامیاں ہیں۔ان میں حقائق کو مسخ کرکے اور بڑھا چڑھا کر مبالغہ آمیزانداز میں پیش کیا گیا ہےاور یہ کہ جائیدادوں کے پتےظاہر کرنا سکیورٹی کی ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔یہ عمل عزت مآب اور ان کے خاندان کے تحفظ کے ضمن میں خطرے کا موجب ہے۔‘‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شاہِ اردن نے جائیدادیں ذاتی جیب سے خرید کی ہیں اوروہ تمام متعلقہ اخراجات بھی اپنے پلّے سے کرتے ہیں۔

تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے) کی نئی تحقیقات میں دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ کے قریباً 600 صحافی شامل ہوئے ہیں۔انھوں نے مالیاتی خدمات مہیا کرنے والی 14 کمپنیوں کی قریباً ایک کروڑ19 لاکھ دستاویزات کا جائزہ لے کر پنڈوراپیپرز کے نام سے مختلف ملکوں کے ارباب اقتداروسیاست اور اعلیٰ انتظامی اور فوجی عہدے داروں کی ملکیتی کمپنیوں اور جائیدادوں کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔

ان پیپرزمیں اگرچہ شاہ عبداللہ دوم پرکسی مجرمانہ مالیاتی غلط کاری کا الزام نہیں لگایا گیا۔ البتہ ان پریہ الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے مالیبو اورکیلی فورنیا سے واشنگٹن اور لندن تک خاموشی سے لگژری رہائش گاہیں خرید کرنے کے لیے آف شورکمپنیوں کا ایک نیٹ ورک بنا رکھاتھا۔

اردن کے شاہی ہاشمی دیوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ عزت مآب شاہ امریکا اور برطانیہ میں متعدد اپارٹمنٹس اور رہائش گاہوں کے مالک ہیں۔ یہ کوئی غیرمعمولی یا نامناسب بات بھی نہیں ہے۔‘‘

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ’’عزت مآب شاہ سرکاری دوروں کے موقع پران جائیدادوں کا استعمال کرتے ہیں اور وہاں حکام اورغیرملکی معززین کی میزبانی کرتے ہیں۔ بادشاہ اور ان کے خاندان کے افراد نجی دوروں کے وقت ان میں کچھ اقامتی املاک میں رہتے بھی ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق ’’جائیدادوں کے مقام کی تشہیرکے عمل میں سلامتی اور رازداری کو پیش نظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی رازداری یا انھیں چھپانے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ ان رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے۔‘‘

اس طرح بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے املاک کے پتے ظاہر کرنے کا عمل سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عزت مآب اور ان کے خاندان کی حفاظت کے لیے خطرے کا موجب ہے۔

بیان میں واضح کیا گیاہے کہ’’ان نجی جائیدادوں کو سرکاری فنڈز یا رقوم سے جوڑنے سے متعلق کوئی بھی الزام بے بنیاد اور جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوششں ہی ہوسکتا ہے۔‘‘

شاہی محل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’تمام سرکاری مالیات اوربین الاقوامی امداد پیشہ ورانہ آڈٹ سے مشروط ہے اوران کی مختص کردہ رقوم کا حکومت اورعطیہ دہندگان کے اداروں کی طرف سے مکمل حساب رکھاجاتا ہے۔‘‘