.

ایران کا کرج جوہری تنصیب پرحملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اتوار کو کہا ہےکہ اسرائیل نے کرج میں ایک سینٹری فیوج تنصیب پر "دہشت گردانہ حملہ" کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے جسے انہوں نے "اہم" قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کرج جوہری تنصیبات کی سائٹ پر حملے کے دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے نگرانی والے کیمروں کی سائٹ تباہ ہو گئی۔

محمد اسلامی
محمد اسلامی

اس حملے سے متعلق ایک رپورٹ میں بُدھ 23 جون کو شائع ہوئی تھی اور اس وقت مہر نیوز ایجنسی نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ آپریشن کامیاب نہیں تھا۔

تاہم اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے اس وقت ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی حکام کے کہنے کے برعکس اس واقعے نے تہران کے مغرب میں کرج میں ایرانی تنصیبات کو "شدید نقصان" پہنچایا۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی انٹلیب نے ہفتہ 3 جولائی کو سیٹلائٹ تصاویر بھی شائع کیں جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کے حصوں کی تباہی کو دکھایا گیا۔

دوسری جانب ’IAEA‘ نے ایران کے ساتھ اپنے حالیہ معاہدے کے مطابق ایجنسی کے کیمروں کا ڈیٹا سٹوریج کارڈ کو کرج تنصیب میں تبدیل کرنے کی درخواست کی لیکن ایران نے اس کی مخالفت کی تھی۔