.

قاسم سلیمانی کی تاسیس کردہ آذربائیجانی ملیشیا تہران اور باکو کے بحران میں نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آذربائیجان اور ایران کے درمیان بحران شدت اختیار کر کے دھمکیوں ، انتباہات اور الزامات کے تبادلے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ ایرانی فوج نے اپنے شمال مغربی پڑوسی ملک کی سرحد کے نزدیک فوجی مشق بھی کی ہے۔ اس صورت حال کے جلو میں آذربائیجان کی ایک شیعہ ملیشیا "حسینیون" کا نام سامنے آ رہا ہے۔ یہ ملیشیا خود کو "آذربائیجان اسلامک موومنٹ" کا نام دیتی ہے۔

ایسے میں جب کہ تہران آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ،،، مذکورہ ملیشیا نے آذربائیجان میں اسرائیلی سفارت خانے کو دھمکی دی ہے۔ اس کے نتیجے میں باکو میں اسرائیلی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کر دیا ہے۔

حسینیون گروپ بھی اُن تمام ملیشیاؤں کی طرح ہے جن کو تہران کی سپورٹ حاصل ہے۔

اگرچہ بعض حلقوں کے نزدیک "حسینیون" محض ایک چھوٹا سا گروپ ہے تاہم عراق، لبنان، یمن اور شام کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایران نواز تمام ملیشیاؤں نے اسی طریقے سے آغاز کیا تھا۔ لبنانی حزب اللہ کا ارتقا بھی اسی طرح عمل میں آیا تھا۔

یاد رہے کہ آذربائیجان میں اکثریت شیعہ ترکوں کی ہے۔ ایران میں 2.5 کروڑ کے قریب آذر ترک بستے ہیں۔ ان کے زیر انتظام تنظیمیں ایران سے علاحدگی اختیار کر کے آذربائیجان کے ساتھ ایک یکجا ریاست کی تشکیل پر زور دیتی ہیں۔

اس کے مقابل ایران آذربائیجان کی آبادی میں شیعہ فرقے کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حسینیون گروپ کے پرچم ایرانی پاسداران انقلاب، حزب اللہ اور ایران کی ہمنوا تمام ملیشیاؤں کے پرچموں سے مشابہت رکھتا ہے۔

گروپ کا بانی " توحید ابراہیم بیگلے" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ وہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی حکومت پر سخت ترین تنقید کرنے والوں میں سے ہے۔ اس گروپ کا ممکنہ خطرہ روس، قوقاز، ترکی اور یورپ میں بسنے والے شیعہ آذربائیجانیوں تک پھیل سکتا ہے۔ آذربائیجان کے سرکاری حکام اس گروپ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس کے ایرانی سیکورٹی اور عسکری اداروں کے ساتھ بھرپور رابطے ہیں۔

سال 2016ء کی ابتدا میں توحید ابراہیم بیگلے نے دینی علوم کے 14 طلبہ کے سامنے اعلان کیا تھا کہ وہ "حسین لار" (ترک زبان میں مطلب حسینیین بریگیڈ) بنانا چاہتا ہے۔ مذکورہ طلبہ ایران کے شہر قُم میں اسلامی مرکز میں زیر تعلیم تھے۔ بیگلے کا دعوی تھا کہ اس گروپ کا پہلا ہدف شام میں داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہونا ہے۔

یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ افغانستان، پاکستان، لبنان اور عراق میں شیعہ آبادی ایران نواز ملیشیاؤں کی تشکیل داعش کے خلاف جنگ کے نام پر کی گئی اور پھر انہیں بشار الاسد کی حکومت کی سپورٹ کے لیے شام بھیجا گیا۔

آذر ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی نے ہی بیگلے کے گروپ کو "آذربائیجان اسلامی مزاحمتی تحریک" کا نام دیا تھا اور اسے "حسینیوں" کےنام سے پکارا۔ قاسم سلیمانی کی توحید ابراہیم بیگلے کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔

ایران میں آخری صدارتی انتخابات میں ابراہیم رئیسی کی جیت پر ابراہیم بیگلے نے ایک پیغام میں انہیں مبارک باد بھی پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ آذربائیجان کے جن شہریوں نے "حسینیون" گروپ میں شمولیت کے ذریعے شام کی جنگ میں شرکت کی تھی انہیں وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا۔

آذربائیجان کی حکومت ابراہیم بیگلے پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف کوششوں اور شدت پسند آرا پھیلانے میں ملوث ہے۔ وہ باکو میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاجی ریلی کے دوران میں گرفتار ہو کر سات روز تک حراست میں بھی رہ چکا ہے۔