.

اسرائیل لبنان کے ساتھ آبی حدود کاتنازع طےکرنے کوتیار ہے:وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی وزیرتوانائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحیرہ روم میں لبنان کے ساتھ جاری سرحدی تنازع کو طے کرنے کی کوششوں کی تجدید کے لیے تیار ہے لیکن وہ یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ بیروت ان مذاکرات کی شرائط طے کرے۔

اسرائیل کی وزیرتوانائی کیرین ایلہرار نے پیرس میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزکوانٹرویو میں کہا کہ ’’ہمیں (اس سرحدی تنازع) کا ایک ایسا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے اورنہ لکیریں کھینچنے کے پرانے طریقوں سے سوچنے کی ضرورت پیش آئے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ایک گیس فیلڈ کوشیئر کرتے ہیں اور اسے کس طرح استعمال کرنا ہے،ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ فریقین کو منصفانہ انداز میں اپنااپنا حصہ مل سکے۔ ہم بات چیت کوایک اور موقع دینے کوتیار ہیں۔‘‘

دونوں ملکوں نے ایک سال قبل امریکا کی ثالثی میں اس تنازع کو طے کرنے کرنے کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے لیکن مئی سے یہ بات چیت تعطل کا شکار ہے۔اس کی وجہ سے متنازع سمندری حدود سے کوئی بھی ملک گیس نہیں نکال سکتا۔

امریکا کے خصوصی ایلچی آموس ہوچسٹائن رواں ماہ دونوں ممالک میں مذاکرات کی بحالی کے لیے نئے سرے سے کوششیں کریں گے۔اس دوران میں اسرائیل نے امریکا کے آئل فیلڈ سروسز گروپ ہالی برٹن کو آف شور ڈرلنگ کا ٹھیکا دے دیا ہے جبکہ لبنان نے عالمی برادری سے اس معاملے پروضاحت طلب کی ہے۔

مئی میں مذاکرات کے اختتام پرلبنانی صدر میشیل عون نے کہا تھا کہ کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہییں۔ انھوں نے امریکا کی ثالثی کی ان تجاویز کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات پہلے سے جمع کرائی گئی اور اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ اسرائیل اور لبنان کی سرحدی لکیروں کی بنیاد پر کیے جائیں۔

مگر ایلہرار نے کہا کہ ’’ہم نے ایک لائن سے مذاکرات شروع کیے تھے اورپھر انہوں نے (لبنان) لائن کو آگے بڑھایا۔ لائنوں کو لفظی طور پربڑھاتے جانا، یہ بات چیت کا طریقہ نہیں ہے۔ وہ ہمیں لکیریں ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے۔‘‘

اس سے پہلے دونوں ملکوں میں بات چیت اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی تھی جب دونوں نے مجوزہ سرحدوں کی وضاحت کرتے ہوئے متضاد نقشے پیش کیے تھے۔اس سے مسئلہ کوحل ہونے کے بجائے دراصل متنازع علاقے کا حجم ہی بڑھ گیا تھا۔

اسرائیل پہلے ہی ایک بڑے آف شورفیلڈ سے گیس نکال رہا ہے جبکہ لبنان کوابھی تک اپنے پانیوں میں تجارتی گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہوسکے ہیں۔اس چھوٹے ملک کو اس وقت 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔