.

تمارا واقعے کے بعد:’ایک وقت میں باتھ روم میں ایک سے زیادہ سانپ گھس سکتے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک چھ سالہ بچی کی واش روم میں سانپ کے ڈسنے سے ہونے والی موت کے بعد سوشل میڈٰیا پر یہ واقعہ اب بھی زیربحث ہے۔ چند روز قبل پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات سے پتا چلا تھا کہ بچی کی موت واش روم میں سانپ کے ڈسنے سے واقع ہوئی تھی تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ڈسنے والے سانپ ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں اور ممکنہ طورپر ان کی تعداد دو بھی ہو سکتی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے سانپ اور بچھو کے زہروں کے سیرم کی پیداوار کے مرکزکے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد الاحیدب نے سانپ کے عرب یا فرانسیسی باتھ روم کی سیٹ میں داخل ہونے کے امکان کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ سانپ اپنی لمبائی کا ایک تہائی تک ہوا میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ ان سانپوں میں عرب کوبرا بھی ہے۔ اگراس سانپ کو دیوار یا باتھ روم کی کرسی مل جائے تو وہ اس کے ساتھ ٹیک لگا کر اپنی لمبائی کا دو تہائی حصہ زمین سے اوپرکھڑا رکھ سکتا ہے۔

سانپوں کے ڈسنے کی دردناک کہانیاں

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے گھروں میں سانپوں کے گھسنے سے متعلق کئی دردناک کہانیاں ملی ہیں۔ چھوٹی بچی تمارا کی کہانی ان کہانیوں میں سے ایک ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ سیوریج پائپ کھل جانے کے باعث پیش آیا ہو۔ سانپ پانی اور خشکی کے درمیان بھی رہ سکتے ہیں۔ بعض اوقات سانپ خود پانی کی تلاش کرتا ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اندر رہتے ہوئے سیوریج لائن تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک سانپ جس کی لمبائی 70 سینٹی میٹر ہو وہ 30 میٹر تک زمین سے اونچا اٹھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر الاحیدب نے تمام ضروری اقدامات کرنے اور گھروں ، ریسٹ ہاؤسز اور کھیتوں کے داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی دروازہ سنگ مرمرکے ٹکڑے سے بند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانپ خود سے حملہ نہیں کرتا بلکہ وہ اپنا دفاع کرتا ہے۔ جب اسے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تب وہ ڈنگ مارتا ہے۔

سانپوں کی اقسام کے بارے میں جو بیت الخلاء میں چھپ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان میں غیر زہریلے اور نیم زہریلے یا بہت زہریلے سانپ ہوتے ہیں۔ سانپ ایک جیسے ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ آبی یا چٹانی ماحول کو پسند کرتے ہیں جیسے عرب کوبرا ، کالا سانپ ، ام جنیب ، داغ دار سانپ اور جیٹ سانپ جو کہ جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ یہ سب زہریلے سانپ ہیں اور وادیوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا زہر پونے گھنٹے میں قاتل بن سکتا ہے۔