.

شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کا عرب ثقافت کےفروغ میں کردار ناقابل فراموش ہے:عراقی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے ثقافت ، سیاحت اور نوادرات کے وزیر ڈاکٹرحسن ناظم نے سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے نام سے قائم کی گئی پبلک لائبریری کےسعودی عرب کے علمی کلچراورعرب ثقافت کے فروغ کے لیے غیرمعمولی خدمات کی تحسین کی ہے۔ اُنہوں نے عراق کی ثقافتی مصنوعات اور پیداوار میں شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کےدرمیان ہونےوالے باہمی تعاون کو بھی سراہا۔

عراقی وزیرحسن ناظم نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز الریاض کتاب میلے میں شرکت کے موقعے پر میلے میں شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کےاسٹال کے وزٹ کے موقعے پر کیا۔

عراقی وزیر ثقافت ڈاکٹر حسن ناظم نے شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے ڈائریکٹگر جنرل ڈاکٹر بندر المبارک سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے پبلک لائبریری کی اشاعتی خدمات کا جائزہ لیا۔ اس موقعے پرمہمان وزیرکوشاہ عبدالعزیز پبلک لائیبریری کی نئی کتابوں، انسائیکلوپیڈیا ، نیز لائبریری کی نایاب ہولڈنگز،مخطوطات،دستاویزات،تصاویراورسکوں کی نمائش کا معائنہ کرتے ہوئے انہوں نے لائبریری کے پویلین کے انعقاد اور عرب اور اسلامی ثقافتوں کے عناصر کو متعارف کرانے میں اس کے ثقافتی اور علمی کردار کے بارے میں بریفنگ دی۔

اس موقعے پرڈاکٹر حسن نے کہا کہ شاہ عبدالعزیزپبلک لائبریری خاص طور پر عرب اور سعودی ثقافت میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔لائبریری کی انتظامیہ کے ساتھ بھی ہمارے گہرے روابط اور تعلقات ہیں۔ یہ کہ آج یہ ریاض بین الاقوامی کتاب میلے کی سرگرمیوں میں ایک اہم ادارے کے طورپر شریک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لائبریری کے منصوبے اہم ہیں۔ اس کا تاریخی ریکارڈ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ لائبریری نہ صرف سعودی عرب کے علمی ذوق رکھنے والوں بلکہ عرب اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے تشنگان علم کے لیے بھی ایک بھرپورعلمی ذخیرہ رکھتی ہے۔ ہمارے لیے اس لائبریری کے اسٹال کا وزٹ کرنا اعزاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سعودی عرب اور عراق کے درمیان ثقافتی اور علمی شعبوں میں مزید تعاون جاری رہے گا۔

نیشنل سینٹر فار ڈاکیومنٹیشن اینڈ آرکائیوز نے 2021 کے ریاض بین الاقوامی کتاب میلے میں ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط سعودی اور عراقی تعلقات کی گہرائی کی عکاس آرکائیو دستاویزات شائع کی ہیں۔

پیش کی جانے والی سب سے پرانی دستاویزات میں عراقی شوریٰ کونسل کے اسپیکر کی جانب سے شاہ عبدالعزیز آل سعود کے نائب کے نام ایک مکتوب شامل ہے۔ مکتوب میں کہا گیا تھا کہ عراق یہ چاہتا ہے کہ حجاج کرام کی آمد ورفت کےلیے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سڑک تعمیر کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ایسے ماہرین کا انتخاب کیا جائے جو سڑک کی جغرافیائی ہیئت اور اس کے اہم اسٹیشنوں کی نشاندہی کرسکیں۔