.

ایران اورعراق میں 1980-88 کی جنگ میں ہلاک31 فوجیوں کی باقیات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور ایران نے بدھ کے روز دونوں ممالک کے درمیان 1980-1988 کی جنگ میں ہلاک شدہ 31 فوجیوں کی باقیات کا تبادلہ کیا ہے۔چارعشرے قبل جنگ آزما ہونے والے دونوں پڑوسی ممالک اب اتحادی بن چکے ہیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے ٹویٹر پر بدھ کو اطلاع دی ہے کہ اس کے زیراہتمام 11 عراقی اور 20 ایرانی فوجیوں کی باقیات آج ان کے اپنے اپنے وطن واپس بھیج دی گئی ہیں۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ فوجیوں کی باقیات کا تبادلہ عراق کے جنوبی صوبہ بصرہ کے ساتھ واقع ایران کے قصبہ شَلَمچہ میں ایک سرحدی چوکی پر کیا گیا ہے۔ایرانی حکام نے عراقی فوجیوں کی باقیات عراقی حکام کے حوالے کی ہیں اور انھوں نے ایرانی فوجیوں کی باقیات ایرانیوں کے سپرد کی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم لاپتا فوجیوں کے اہل خانہ کو جوابات فراہم کرنے میں متعلقہ حکام کی مدد جاری رکھیں گے کیونکہ اقوام متحدہ کی مداخلت ہی سے دونوں ملکوں میں جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔‘‘

گذشتہ برسوں کے دوران میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجیوں کی باقیات کے تبادلے کی متعدد تقریبات منعقد کی جاچکی ہیں۔ان میں آئی سی آر سی کے ساتھ 2008ء میں طے شدہ معاہدے کے تحت سیکڑوں باقیات کوان کے آبائی ممالک میں منتقل کیا گیا ہے۔

اپریل میں آئی سی آر سی نے کہا تھا کہ ایران اور عراق کے درمیان مسلح تنازع کے خاتمے کو 30 سال سے زیادہ کاعرصہ گزر چکا ہے مگردونوں اطراف کے ہزاروں خاندان اب بھی اپنے لاپتا پیاروں کے بارے میں اندھیرے میں ہیں۔

ایران اورعراق کے درمیان آٹھ سال تک لڑی گئی اس خونریزجنگ میں دونوں اطراف سے لاکھوں افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن 2003ء میں عراق کے سابق مطلق العنان صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد سے ایران نے تیزی سے پڑوسی ملک میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کیا ہے۔ایران کے اعلیٰ فوجی عہدے دار اور مذہبی سیاسی حکام عراق کے عمومی امور میں مداخلت کے علاوہ حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔