.

سعودی عرب کی خاتون رکن شوریٰ کے الریاض کتاب میلے بارے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کی ایک خاتون رکن ڈاکٹر ثریا العریض نے منگل کو الریاض میں جاری عالمی کتاب میلے کا وزٹ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے بین الاقوامی کتاب میلے کو ہمہ نوعی علمی ذخیرے کا ایک بے نظیر پروجیکٹ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ الریاض کتاب میلہ اپنے علمی ذخیرے اور ہمہ جہت اور ہمہ نوع ثقافتی لٹریچر کے اعتبارسے عرب اور عالمی سطح کا ایک بے مثال پروگرام ہے۔ اس پروگرام نے دنیا بھر کے ادیبوں، شاعروں اور اہل علم کی تالیف و تصانیف کو ایک چھت تلے جمع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ میلہ خوبصورت سماجی ماحول کا آئینہ دار ہے جو سعودی عرب کے ثقافتی اور تہذیی ارتقا کا نمونہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ثریا نے کہا کہ وہ کئی وجوہات کی بنا پر اس میلے میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔ ان میں ایک بڑا سب مختلف علمی فورمز میں شرکت کرنا اور کتابوں پرآٹو گراف بالخصوص مشیر ترکی آل الشیخ کی کتاب پر دستخط کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کتاب میلے میں شرکت مثبت سوچ اور امیدکا احساس دلاتی ہےجو زائرین کے چہروں پرنمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی رکن شوریٰ کا کہنا تھا کہ وہ عراق کے سیکرٹری آثار قدیمہ کے لیکچر میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔ اس موقعے پرانہوں نے عراق کے بیش قیمت آثار قدیمہ کا بھی ملاحظہ کیا ہے جنہیں کچھ عرصہ قبل چوری کیا تاہم اسے اب عراق کو واپس کردیا گیا ہے۔