.

قفقاز کی صورت حال کے حوالے سے روس کے ساتھ رابطے میں ہیں: ايران

حقائق تصدیق ٹرینڈنگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کریں گے۔ آذربائیجان کے ساتھ ایران کی کشیدگی کے تناظر میں یہ دورہ اور ملاقات خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کی شام ماسکو سے جاری بیان میں عبداللہیان کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک قفقاز میں صورت حال کی پیش رفت سے متعلق اپنے موقف کے حوالے سے روس کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران روس سے توقع رکھتا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کی سرحدوں پر ممکنہ تبدیلیوں ، دہشت گردوں کی موجودگی اور اسرائیلی نقل و حرکت کے حوالے سے رد عمل اور مطلوبہ حساسیت کا اظہار کرے گا۔

اس سے قبل ایران یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ آذربائیجان کی سرحد پر اسرائیلی فورسز موجود ہیں۔ تاہم آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے گذشتہ روز ایک خطاب میں اس کی تردید کی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران اور آذربائیجان میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے اُن علاقوں کی سرحد پر فوجی مشقیں کیں جو آذربائیجان نے آرمینیا کے قبضے سے چھڑائے تھے۔ جواب میں آذربائیجان نے بھی گذشتہ روز ملک کے شمال مغرب میں ایران کی سرحد کے نزدیک ترکی کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔

یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ مختلف سطح پر حکومتی عہدے داران کی جانب سے الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

آذری صدر یہ بات زور دے کر کَہ چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیا جائے گا اور تمام لوگ اپنے بیانات کے ذمے دار ٹھہریں گے۔ صدر نے مزید کہا کہ ان کی حکومت کسی فرد کو آذربائیجان کو بدنام کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گی۔