.
کرونا وائرس

یو اے ای نے 60 سال سے زائد افراد کے لئے فائزر، سپوتنک بوسٹر ویکسین کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت کے حکام نے 60 سال زائد عمر کے افراد اور موذی امراض میں مبتلا افراد کے لئے فائزر بائیو این ٹیک اور روس کی سپوتنک کی ویکسینز کو بطور اضافی خوراک لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی [NCEMA] کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یہ اضافی خوراک کرونا وائرس کی دوسری ڈوز لگوانے کے چھ ماہ بعد دی جانی چاہئیے تاکہ کرونا وائرس سے محفوظ رہا جاسکے۔

اتھارٹی کے مطابق اضافی ویکسین ان افراد کو لگائی جائے گی جن کی صحت کمزور ہے جیسے کہ 60 سال سے زیادہ بوڑھے افراد، موذی امراض میں مبتلا افراد اور ایسے افراد جو طویل عرصے سے کسی عارضے میں مبتلا ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق اس اضافی خوراک سے کرونا وائرس کے خلاف جسم میں مزاحمت پیدا ہو جائے گی۔کرونا ویکسین کی افادیت وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے اسی لئے دنیا بھر میں بوسٹر یا اضافی خوراک پر تحقیق جاری ہے۔

اماراتی اتھارٹی کے مطابق اس اعلان کا تعلق ان لوگوں پر نہیں ہوتا جنہوں نے سائنوفارم ویکسین لگوانے کے بعد فائزر یا سپوتنک کی اضافی خوراک لگوائی ہوئی ہے۔

منگل کے روز اماراتی حکام کے مطابق ملک بھر میں 176 نئے کرونا وائرس کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ ایک فرد کی موت واقع ہوئی۔

امارات میں اب وائرس کے نتیجے میں 2104 اموات واقع ہوچکی ہیں جبکہ 7 لاکھ 37 ہزار 73 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔جبکہ اب تک سات لاکھ 30 ہزار 93 لوگ کرونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل ابوظبی کے میڈیا دفتر(اے ڈی ایم او) نے منگل کو خبر دی تھی کہ ایمرجنسی، کرائسس اور ڈیزاسٹر کمیٹی نے امارت میں اسکولوں کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذالعمل اقدامات میں نرمی اور ویکسی نیشن کی شرح کی بنیاد پرمعمول کی تدریسی سرگرمیوں میں واپسی کے لیے ’بلیواسکول اقدام‘کی منظوری دی ہے۔

نیلا اسکول اقدام پر موجودہ تعلیمی سال کی دوسری مدت میں عمل درآمد کیا جائے گا۔اس کے تحت جن اسکولوں میں طلبہ اور عملہ کو ویکسین لگانے کی شرح زیادہ ہوگی،انھیں بتدریج اقدامات میں نرمی کی اجازت دی جائے گی۔

نئے اقدامات میں سماجی فاصلے کے تقاضے کی پاسداری میں کمی، ماسک پہننے کے پروٹوکول میں نرمی،کمرۂ جماعت اور اسکول ٹرانسپورٹ کی طلبہ کی گنجائش میں اضافہ اورغیر نصابی سرگرمیوں کی طرف واپسی اور میدانی دورے شامل ہوں گے۔

ابوظبی کے میڈیا دفتر کے مطابق اس اقدام میں ویکسی نیشن کو’’بحالی کا کلیدی راستہ‘‘قرار دیا گیا ہے۔شفافیت پرمکرر زور دیا گیا ہے اور اسکول میں طلبہ کے سیکھنے اور سماجی تجربے کی اہمیت کوتسلیم کیا گیا ہے۔

نئے اقدام کے تحت اسکولوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • 50فی صد سے کم طلبہ کو ویکسین لگانے والے اسکول اورنج زمرے میں شامل ہوں گے۔
  • 50سے 60 فی صد طلبہ کوویکسین لگانے والے اسکول پیلے زمرے میں آئیں گے۔
  • 65سے 84 فی صد طلبہ کوویکسین لگانے والے اسکولوں کے لیےگرین۔
  • 85 فی صد اور اس سے زیادہ طلبہ کو ویکسین لگانے والے اسکولوں کا درجہ سب سے بلند یعنی نیلا ہوگا۔

میڈیا دفاتر نے کہا کہ بچّے ابوظبی بھر میں قائم بہت سے مراکز میں کووِڈ-19 کی ویکسین مفت لگواسکتے ہیں۔ان میں اے ڈی این ای سی میں بچّوں کے لیے وقف ویکسی نیشن سنٹر بھی شامل ہے۔

اس نے مزید بتایا ہے کہ فائزر۔بائیواین ٹیک کی ویکسین 12 سال یا اس سے زیادہ عمرکے بچّوں کے لیے دستیاب ہےاورسائنوفارم ویکسین 3 سال یا اس سے زیادہ عمرکے بچّوں کے لیے دستیاب ہے۔