.

ریاض کتاب میلے میں اقوام متحدہ نے مہاجرین کی تکالیف کو کیسے پیش کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے ریاض بین الاقوامی کتاب میلہ 2021 میں اپنے پویلین کے ذریعے پناہ گزینوں اور جبری طور پر بے گھر افراد کے مسائل پیش کیے۔ان پناہ گزینوں کی تعداد عالمی سطح پر تقریبا. 82.4 ملین بتائی جاتی ہے۔

گلف کوآپریشن کونسل ریاستوں میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین میں خارجی تعلقات کی افسر نھیٰ معروف نے اشارہ کیا کہ ان کا ہدف لوگوں کو گاہی دینا اور لوگوں کو ایک اہم انسانی مسئلے کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ دنیا کو یہ بتانا ہے کہ جبری طور پر بے گھر ہونا کتنا بڑا اورسنگین مسئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہر 95 افراد میں سے ایک شخص ہے کو جبری نقل مکانی کا سامنا ہے۔

ان بے گھر افراد کی اکثریت مسلم دنیا کے باشندوں پر مشتمل ہے۔ ایسے لوگ ترقی پذیر اور غریب علاقوں میں بھاگ رہے ہیں۔’یو این ایچ سی آر‘ کا کردار تحفظ اور زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنا ہے جیسے رہائش ، پناہ گاہ ، تعلیم ، صحت ، پانی اور کم از کم ایسی خدمات جو انسانی وقار کی ضمانت دیتی ہیں۔

انسانی مسائل

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاض کتاب نمائش جیسے بڑے فورم میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی موجودگی فائدہ مند ہے۔یہ ہمیں انسانی مسائل پر روشنی ڈالنے کے قابل بناتی ہے۔ خاص طور پر مہاجرین کے مصائب کو کم کرنے میں سعودی عرب کے کردار اور یو این ایچ سی آر کے پروگراموں کے لیے امداد اور فنڈنگ فراہم کرنے میں مملکت کے کردار کو نمایاں کیاگیا ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بیس ممالک میں پناہ گزینوں کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے اور مملکت کا ادارہ شاہ سلمان ریلیف سینٹر کئی ممالک میں پناہ گزینوں کے لیے خدمات انجام دے رہا ہے۔