.

سعودی عرب میں مہلک ترین سانپ کون کون سے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ جمعرات کو سعودی لڑکی تمارا عبدالرحمن کی موت ابھا میں ان کے گھر کے باتھ روم میں سانپ کے کاٹنے کے بعد ہوئی تھی جس کے بعد مملکت میں سانپوں کے حوالے سے بحث چل رہی ہے۔

ایک سعودی دانشور اور سانپوں کے ماہرنائف المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کئی مُہلک سانپ ہیں جن میں بلیک کوبرا، عربی کوبرا اور والٹرنسیا ایجپٹیا شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ سانپ کا زہراعصابی نظام پرحملہ کرتا ہے جو جسم کو مکمل طور پر مفلوج کردیتا ہے۔ خون کے نظام اور ٹشوز کو متاثر کرتا ہے۔ ان کی زہر سے بعض اوقات عضاء کاٹنا پڑتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقسام کے سانپ جب کاٹتے ہیں تو چکر آنا ، متلی ، سانس لینے میں دشواری ، پسینہ آنا کاٹنے کی جگہ کا سرخ ہونا ، سوجن اور شدید خون بہنے کا سبب بن سکتا ہے۔

کم زہریلے سانپ

نواف المالکی نے کہا کہ جس طرح بعض سانپ زہریلے اورجان لیوا ہوتے ہیں، اسی طرح کچھ سانپ کم زہریلے ہوتے ہیں۔ ان میں ابو سیور، بلی نما اور چٹانی سانپ شامل ہیں۔ ان کا اثر بچوں ، بوڑھوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد پر پڑتا ہے۔ اور جب سانپ کاٹتے ہیں تو آپ کو لازمی طور پرپہلے متاثرین کے اعصاب کو پرسکون کریں کیونکہ یہ جسم میں زہر کے پھیلاؤ کو کم کرتا ہے۔

اس کے بعد پانی یا صابن سے زخم کو دھویا جائے۔ اس کے بعد اس کو پٹی سے ڈھانپ دیا جائےمگر زخم پر زیادہ دباؤ نہیں آنا چاہیے۔ اس دوران مشروبات پینے سے پرہیز کی جائےکیونکہ مشروبات میں کیفین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ زخم پر برف رکھنے سے گریز کیا جائے اور فوری طورپر قریبی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔