.

حاملہ خاتون کے حادثے نے حوثیوں کی بارودی سرنگوں کا نیٹ ورک بے نقاب کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی شہر الحدیدہ میں ساحل کے قریب ایک بارودی سرنگ پھٹنے کے نتیجے میں ایک حاملہ خاتون شدید زخمی ہوگئی۔

اس واقعے نے جہاں یمن میں جاری خانہ جنگی کے المیے کو نمایاں کیا ہے وہیں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے نیٹ ورک کا پتا چلانے میں بھی مدد دی ہے۔ یہ بارودی سرنگیں اس علاقے میں 300 میٹر پر پھیلی ہوئی ہیں۔ الحدیدہ کی مشرقی کالونیوں میں اس طرح کی عالمی سطح پر ممنوعہ بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔

یمن کی جوائنٹ فورسز کے شعبہ اطلاعات نے جمعرات کے روز بتایا کہ ایک انجینیرنگ ٹیم نے شہر کے مشرقی مضافات میں ریڈ سی ملز اور المسنا علاقے کے درمیان دوبارہ سروے کا کام شروع کیا تاکہ بین الاقوامی طور پر ممنوعہ بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد وہاں پر مزید بارودی سرنگوں کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکے۔

حوثیوں کی مسلسل دہشت گردی کا تازہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا جب ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے محمدہ محمد عبداللہ جلاجل نامی خاتون زخمی ہوگئی۔ وہ چار ماہ کی حاملہ تھی اور سرنگ پھٹنے سے اس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہیں۔

ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ انجینیرنگ ٹیم نے اینٹی آرمر بارودی سرنگوں کا ایک نیٹ ورک دریافت کیا جن میں سے کچھ کو ایران کی طرف سے حوثی ملیشیا کو فراہم کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انجینیرنگ ٹیم نے کئی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا جب کہ المسنا اور اس کے اطراف میں مزید بارودی سرنگوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ یمن کی جوائنٹ سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ تین سال کے دوران الحدیدہ شہر کی مشرقی کالونیوں میں حوثیوں کی بچھائی سیکڑوں بارودی سرنگوں کی نشاندہی کی اور انہیں ناکارہ بنایا گیا۔حوثیوں کی طرف سے بچھائی گئی کچھ بارودی سرنگیں اینٹی آرمر اور کچھ انفرادی سطح پر لوگوں کو نقصان پہنچانے والی سرنگیں شامل ہیں۔ عالمی سطح پر ممنوعہ ان سرنگوں کا 600 میٹر فیلڈ ایریا خالی کیا گیا۔

حاملہ خاتون محمدہ محمد جلاجل منگل کے روز المسنا کے علاقے میں بارودی سرنگ کے پھٹنے سے شدید زخمی ہوئیں اور اس کے دونوں پاؤں کٹ گئے ہیں۔