.

حوثی ملیشیا کی جانب سے جازان میں ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش، 10 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان نے اعلان کیا ہے کہ کل جمعے کی شام جازان میں شاہ عبداللہ ہوائی اڈے پر حوثی ملیشیا کی جانب سے دھماکا خیز ڈرون کے ذریعے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ بعد ازاں اتحادی افواج نے ایک اور دھماکا خیز ڈرون کو فضا میں تباہ کر دینے کا انکشاف کیا۔ اس ڈرون سے مذکورہ ہوائی اڈے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق دشمن کے حملے کی کوشش کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہو گئے جن میں مسافر اور ہوائی اڈے پر کام کرنے والے شامل ہیں۔ زخمیوں میں 6 سعودی، 3 بنگلہ دیشی اور ایک سوڈانی شہری ہے۔

اس دوران میں ہوائی اڈے کی عمارت کے بعض شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

المالکی نے بتایا کہ ایران نواز دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کے سلسلے میں غیر اخلاقی کارروائیاں جاری ہیں۔ شہری ہوائی اڈے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔

ادھر العربیہ نیوز چینل کے نمائندے حسن الطالعی نے براہ راست نشریات میں اس بات کی تصدیق کی کہ شاہ عبداللہ ہوائی اڈے پر طیاروں کی آمد و رفت صرف 30 منٹوں کے لیے روکے جانے کے بعد دوبارہ سے معمول پر آ گئی۔

شاہ عبداللہ ائیرپورٹ جازان
شاہ عبداللہ ائیرپورٹ جازان

دوسری جانب یمنی حکومت نے حوثی ملیشیا کی جانب سے جازان میں شاہ عبداللہ ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔ یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں حوثیوں کے جرائم اور خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی برادری کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا کی اعلی قیادت کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہ کرنا تعجب خیز ہے۔

الاریانی کے مطابق حوثی ملیشیا ایک دہشت گرد تنظیم جو القاعدہ اور داعش سے مختلف نہیں۔