.
جوہری ایران

ویانا میں جوہری بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ تہران نے 4+1 گروپ (روس، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی) کے ساتھ ویانا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے مطابق آج ہفتے کے روز اخباری بیان میں خطیب زادہ نے کہا کہ یہ فیصلہ "بات چیت پر نظر ثانی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے" کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری مذاکرات کا از سر نو جائزہ لینے کا دوسرا مرحلہ "مستقبل قریب میں کسی نتیجے تک پہنچ جائے گا"۔ ترجمان کے مطابق سابقہ مذاکرات پر نظر ثانی مکمل ہونے کے ساتھ ہی نئی بات چیت شروع ہو جائے گی۔

خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ نئی ایرانی حکومت جوہری مذاکرات کے سابقہ چھ ادوار کا جائزہ لے رہی ہے۔

فرانسیسی ٹیلی وژن "فرانس 24" کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "میں خیال کرتا ہوں کہ مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے لیے مقررہ عرصہ ،،، اُس دورانیے (90 روز) سے کم ہو گا جو امریکی صدر کی ٹیم کو مذاکرات میں واپسی کے لیے درکار ہوا"۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے جاری بات چیت کے سلسلے میں پر امید ہے کہ یہ مذاکرات بار آور ثابت ہوں گے بشرط یہ کہ امریکا اس حوالے سے مکمل پاسداری پر عمل کرے۔

مئی 2018ء میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے تہران پر کڑی پابندیاں پھر سے عائد کر دی تھیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بیروت میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ "یہ بات اہم ہے کہ ہمیں دوسری جانب سے جس میں امریکا شامل ہے، ایسے اشارے ملیں جن سے ظاہر ہو کہ وہ مکمل طور پر اپنی پاسداریوں کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں"۔

ایران ک نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب کے بعد سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران اور جوہری معاہدے کے بقیہ ممالک کے بیچ بات چیت کا سلسلہ رک گیا تھا۔