.

’تماشائی کی کوئی عمرنہیں ہوتی‘ کھیلوں کے دیوانے سعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کھیلوں کا شوق اورشغف رکھنا عام سی بات ہے مگر بڑھتی عمر کے ساتھ کھیلوں میں دلچسپی عموما کم ہوتی جاتی ہے۔ تاہم سعودی عرب میں کھیلوں کے ایک تماشائی نے اپنی پوری زندگی کھیل کے میدانوں میں ایک تماشائی کے طور پر گزار دی ہے۔

محمد الحازمی ’ابوزمیرہ‘ کے عرفی نام سے مشہور ہیں۔ انہیں سعودی عرب میں باجے والا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ کھیل کے میدانوں میں وہ اپنی پسندیدہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ’مزمار‘ کا استعمال کرتا ہے۔

ابو زمیرہ کا یہ نام اس کی مزمار کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ ’الواحدہ فٹ بال کلب‘ اس کی پسندیدہ ٹیم ہے۔ حال ہی میں جدہ میں الوحدہ کلب اور جاپانی ٹیم کے درمیان ہونے والے ایک مقابلے کے موقع پر بھی ابو زمیرہ موجود تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے محمد الحازمی نے کہا کہ فٹ بال اس کا جنون ہے۔ میں نے پوری زندگی کھیل کے تماشائی کے طور پر گزار دی مگر میرا شوق اور جنون کم نہیں ہوا۔ آج میری عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہوچکی ہے مگر میں آج بھی ایک تماشائی کے طور پر فٹ بال میدان میں پہنچ جاتا ہوں۔ اس کا کہنا ہے کہ میرا مقصد کھیل کے میدان میں اپنی پسندی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا 30 سال پہلے میں کھیلوں کے میدانوں میں جاتا تھا۔ میں اپنے ساتھ ایک پرانی چار سلاٹ والی ہارن ہنکنگ مزمار اپنے ساتھ لے جاتا اور ہنکنگ کی آواز نکالتا تھا جس سے مجھے ابو زمیرہ کہا جاتا تھا۔ پچھلے برسوں کے دوران پرانی مشین خراب ہوگئی۔ میں نے ایک خوبصورت اور بلند آواز کے ساتھ ایک نیا باجا خریدا۔

اس نے کہا کہ انہیں کھیلوں کے شائقین کی طرف سے بہت اچھا تعامل ملتا ہے، اس کے بدلے میں وہ جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ بہت سے حوصلہ افزا نعروں اور حب الوطنی کے نغموں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اس نے وضاحت کی کہ اس نے تربیت اور مشق سے مہارت کے مقام تک ہنکنگ سیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشین ہے جو سانس اور آواز کی طاقت پر منحصر ہے اور وہ اسے لاؤڈ اسپیکر کے بغیر انجام دیتا ہے۔