.

ایران کو باتوں کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر جوہری ہتھیار سے روکیں گے: اسرائيل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے ملک کا موقف دہرایا ہے۔ آج اتوار کے روز اخباری بیان میں بینیٹ نے باور کرایا کہ اسرائیل صرف باتوں کی حد تک نہیں بلکہ واقعتا تہران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کا شدید خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ان دنوں ویانا مذاکرات میں واپسی کے حوالے سے ایران کے جواب کی منتظر ہے جب کہ تہران ٹال مٹول کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

بینیٹ کے مطابق آخری تین برسوں کے دوران میں ایرانی حکام نے یورینیم کی افزودگی میں ایک بڑی جست لگائی ہے۔ وہ آج اپنی تاریخ میں ایٹم بم حاصل کرنے کے قریب ترین نقطے پر ہے۔

نفتالی بینیٹ کا یہ بیان اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف افیف کوخافی کے بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ کوخافی نے اس بیان میں کہا تھا کہ تل ابیب کی جانب سے ایران کی عسکری صلاحیت تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

نفتالی بینیٹ نے گذشتہ ماہ ستمبر کے اواخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب میں کہا تھا کہ "ایران کا جوہری پروگرام تمام سرخ لائنوں سے تجاوز کر چکا ہے"۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ایران مشرق وسطی میں غلبہ پانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ خطے پر جوہری چھتری تخلیق دے رہا ہے۔ بینیٹ نے اپنے خطاب میں عندیہ دیا تھا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اسرائیل ممکنہ طور پر انفرادی کارروائی کر سکتا ہے۔