.

ہمارے پاس 120 کلو گرام سے زیادہ افزودہ یورینیم موجود ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اقرار کیا ہے کہ ان کے ملک کے پاس 20% تناسب سے افزودہ کیا گیا 120 کلو گرام سے زیادہ یورینیم موجود ہے۔

اسلامی نے یہ بات ہفتے کی شام سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم 120 کلو گرام سے تجاوز کر چکے ہیں ... مغربی طاقتوں کی جانب سے ہمیں 20% کے تناسب سے افزودہ کیا گیا یورینیم فراہم کیا جانا تھا تا کہ اسے تہران کے ری ایکٹروں میں استعمال کیا جا سکے تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا"۔

محمد اسلامی
محمد اسلامی

اسلامی کے مطابق اگر ایران اس پیش رفت کی جانب نہ جاتا تو اسے تہران کے ری ایکٹروں کے واسطے ایندھن میں قلت کا سامنا ہوتا !

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ستمبر میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی رُو سے اجازت یافتہ حد سے زیادہ تناسب سے افزودہ کیے گئے یورینیم کا ذخیرہ مضبوط بنا لیا ہے۔ ایجنسی کی آخری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران کے پاس 20% تناسب سے افزودہ کیا گیا 84.3 کلو گرام یورینیم ہے۔

یاد رہے کہ جوہری معاہدے کی رُو سے تہران 3.67% سے زیادہ تناسب سے یورینیم افزودہ کرنے کا مجاز نہیں۔ یہ جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے افزودگی کے مطلوبہ تناسب (90%) سے کہیں کم ہے۔

چین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکا نے اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا کہ تہران کی جانب سے جوہری پروگرام محدود کرنے کی صورت میں وہ ایران پر عائد بعض پابندیاں اٹھا دیں گے۔

تاہم مئی 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر علاحدگی اختیار کر کے تہران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام بتدریج جوہری معاہدے کی پاسداریوں سے دست بردار ہوتے چلے گئے۔