.

سعودی عرب: جعلسازی سے ڈھائی کروڑ ریال کا قرضہ لینے پر ایک سعودی اور غیر ملکی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مقامی شہری کی طرف سے ماہانہ مخصوص رقم کے عوض ایک غیر ملکی عرب ٹھیکیدار کو اپنی خدمات فراہم کرتے ہوئے اسے بھاری مقدار میں قرض لینے کا موقع فراہم کیا۔ پولیس نے اسکینڈل میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی وزارت تجارت کو معلوم ہوا ہے کہ ایک مقامی شخص نے اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے ایک غیر ملکی عرب باشندے کو خفیہ رکھا اور اس کے نام پر بھاری مقدار میں ٹھیکے اور قرضے لیے۔

مقامی سہولت کار کو 26 ملین ریال کے بھاری قرضوں کے حصول اور ان میں ہیر پھیر میں ملوث پایا گیا ہے۔ مقامی شہری پر ایک دوسرے عرب ملک کے باشندے کو اپنے ساتھ ملانے اور خفیہ طور پر اسے اپنے تنظیم کے نام پر دمام شہر میں ٹھیکے لے کر دینے کا بھی پتا چلا ہے۔

دونوں ملزمان کے مابین اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ غیر ملکی مالک بن کر کاروبار سنبھالے گا، سامان خریدے گا، پروجیکٹ نافذ کرے گا، معاہدوں پر دستخط کرے گا اور مالک کے طور پر کام کرے گا جبکہ اصل مالک اس کے بدلے میں ماہانہ 5000 ریال وصول کرے گا۔ وہ اپنے نام پر ٹھیکے لے کر دوسرے ملک کے شخص کو دیتا رہا ہے۔

مقامی شخص کی طرف سے غیر ملکی کو مختلف ٹھیکوں کے لیے قرضوں کے حصول میں مدد فراہم کی گئی۔

جب مجاز ادارے نے فاؤنڈیشن کے مالک کو طلب کر کے اس سے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ اس کے نام کو استعمال کرتے ہوئے 26 ملین ریال کا قرض لیا گیا ہے مالک کو اس کا کانوں کان علم تک نہیں۔

سعودی عرب کی زارت تجارت نے اس فراڈ میں ملوث مقامی شخص اور غیرملکی دونوں کو طلب کیا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت تجارت نے رواں ماہ کے دوران نئے اینٹی کور اپ سسٹم کے حوالے سے قانون اور سزاؤں کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ یہ قانون سات ماہ قبل 25 فروری کو منظور کیا گیا تھا۔