.

مزید پانی کے حصول کے لیے اردن کا اسرائیل سے تازہ معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل منگل کو اسرائیلی وزیر توانائی کارین الحرار نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے اردن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ عمان کو سالانہ 50 ملین کیوبک میٹر اضافی پانی کی فراہمی ساتھ اردن کو اب تک فراہم کردہ پانی کی مقدار کو دوگنا کیا جا سکے۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ہم نے اردن کے لیے پانی کی مقدار بڑھانے کے لیے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے اور یہ ایک واضح اعلان ہے کہ ہم اچھے پڑوسی بن کر دوسروں سے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

جولائی میں اسرائیلی خاتون وزیر نے اردن کے ساتھ پانی کے معاہدے کی بات کی تھی جس کے بعد ان کا عمان کا پہلا دورہ ہے۔

دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیل اردن کو 50 ملین کیوبک میٹر سالانہ پانی فروخت کرے گا۔ اس کے علاوہ 55 ملین کیوبک میٹر مفت پانی فراہم کیا جائے گا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایکو پیس مڈل ایسٹ‘ جس کے دفاتر عمان، تل ابیب اور غرب اردن میں ہیں کے ایک عہدیدار گیڈون برومبرگ اس معاہدے کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی فراہمی کی اب تک کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔

اردن ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں پانی کی قلت سب سے زیادہ ہے اور اسے شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔ اس میدان میں اسرائیل کے ساتھ اس کا تعاون سنہ 1994ء میں طے پائے امن معاہدے سے پہلے کا ہے۔

اردن کی ’واٹر ڈپلومیسی‘ 1921 سے چل رہی ہے جب دریائے یرموک اور دریائے اردن کے سنگم پر ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سنہ 1948 میں فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد اور گذشتہ دہائیوں میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرات کے باوجود پانی کا تعاون جاری رہا ہے۔

جون سے جب وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑے پانی کے معاہدے کی منظوری کے بعد افق پر مثبت علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔