.

اداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والی سعودی رضا کار کے نائیجیریا میں 60 گھنٹے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سےتعلق رکھنے والی رضاکار نوف البلوی شاہ سلمان سینٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینیٹری ایکشن کی ورک ٹیم کے حصے کے طور پرآنکھوں کے 70 سے زائد معائنے کرکے نائیجیریا میں غریبوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں کامیاب رہیں۔

ایک سینیر آپٹومیٹرسٹ نوف البلوی نے سعودی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف طویل اور کٹھن سفر کیا بلکہ اس نے نائیجیریا میں نابینا پن کے خاتمے کے لیے جاری پروگرام کے تحت60 گھنٹے خدمت خلق میں گذارے۔ نوف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا۔ اس شراکت کا مقصد بینائی کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھانا تھا۔ رضاکارانہ کام ایک فطری انسانی چیز ہے۔ اس رضا کار مشن میں میرا کردار آپریشن سے پہلے اور بعد میں بصری معائنہ کرنا ہوتا تھا۔ ٹیسٹوں میں آنکھ کے سائز کا تعین کرنا اور آپریشن کے دوران لگائے گئے لینس کے ساتھ ساتھ الٹرا ساؤنڈ ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے ریٹنا کا معائنہ کرنا تھا۔

اس نے مزید کہا کہ یہ ایک خوبصورت احساس ہے جب ہم ان بوڑھوں کی مسکراہٹ اور خوشی دیکھتے ہیں جو آنکھوں کے اندر موتیا کی موجودگی کے نتیجے میں بینائی کی کمزوری کا شکار ہیں تو ان کی مدد کرکے ہمیں بھی دلی سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

البلوی نے تفصیل سے ساتھ کی اور کہا کہ مہم کا دورانیہ ایک ہفتے پر مشتمل تھا۔ ہمیں اپنے رضاکارانہ سفر کے دوران کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم شہر سے دو گھنٹے دور ایک گاؤں گئے جہاں بجلی اور پانی نہیں تھا۔ مقامی رہائشیوں کو امراض چشم کے علاج کی اشد ضرورت تھی۔ جن لوگوں کے بینائی کے مسائل تھے ان کا اسی جگہ پر معائنہ کیا گیا۔

البلوی نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ نائیجیریا میں میری رضاکارانہ خدمات میرا پہلا تجربہ تھا۔ میں اس وقت ایک افریقی ملک میں ایک اور مہم کی تیاری کر رہی ہوں اور میرا مقصد چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا اور لوگوں کو خوشیاں دینا ہے۔