.

حزب اللہ اور ’امل‘ تحریک کے مسلح عناصر نے بیروت کو یرغمال بنا لیا

جج کے خلاف پرتشدد مظاہروں میں 4 افراد ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج جمعرات کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سخت کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ کشیدگی کا محرک ایک مقامی تفتیشی جج کو ہٹانے کے لیے احتجاج ہے جو گذشتہ برس بیروت بندرگاہ میں ہونے والے تباہ کن دھماکوں کے تحقیقات کررہے ہیں، جب کہ انہیں ہٹانے کے لیے ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کی ہم خیال ’امل‘ تحریک سراپا احتجاج ہیں۔

جمعرات کے روز بیروت میں ایوان عدل، قصر انصاف اور الطیونہ کے باہر حزب اللہ اور امل تحریک کے ارکان کی بڑی تعداد نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین جسٹس طارق بیطار کوبیروت دھماکوں کے انکوائری کیس سےہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیروت میں جاری کشیدگی کے دوران جھڑپوں اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 4 افراد جاں بحق اور کم سے کم 20 زخمی ہوگئے ہیں۔

بیروت کے ایک سکول میں طلباء فائرنگ کی آوازوں سے خوفزدہ ہو کر سکول کے ہال میں جمع ہیں۔
بیروت کے ایک سکول میں طلباء فائرنگ کی آوازوں سے خوفزدہ ہو کر سکول کے ہال میں جمع ہیں۔

کشیدگی میں اضافے کے دوران الطیونہ میں ’آر پی جی‘ راکٹ داغے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق درجنوں نشانہ بازوں نے بیروت میں گھروں کی چھتوں اور اونچے مقامات پر پوزیشنیں سنھبال لی ہیں۔ عین الرمانہ کے مقام پر گھروں کی چھتوں پر مسلح افراد کو دیکھا گیا ہے۔

لبنانی فوج کے اہلکار طیونہ کے علاقے میں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔
لبنانی فوج کے اہلکار طیونہ کے علاقے میں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔

درایں اثنا لبنان کے وزیر داخلہ نے موجودہ کشیدہ صورت حال کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں کے ذمہ داران کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے۔ اجلاس کا مقصد سیکیورٹی کی صورت حال پرنظر رکھنا اور امن وامان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیروت میں حساس مقامات پرایک حساس وقت میں کشیدگی تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے بیروت میں فائرنگ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔ الطیونہ کے علاقے میں فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ سیکیورٹی حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سڑکیں خالی کردیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ سڑکوں پرمسلح شخص کو گولی مار دی جائے گی۔

حزب اللہ کے مسلح عناصر سڑکوں پر

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے مسلح جنگجو بیروت کے اطراف اور شہر کے اندر کئی مقامات پر موجود ہیں۔

حزب اللہ اور امل تحریک نے ایک مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ کی گئی ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے حامیوں سے پرامن رہنے کی بھی اپیل کی۔

واضح رہے کہ یہ تشدد اور جھڑپیں آج اس وقت سامنے آئیں جب دو اتحادی جماعتوں (امل اور حزب اللہ) کے حامیوں نے بیروت میں انصاف محل کے سامنے جمع ہوکر جج طارق بیطار کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنا ہاتھ روکیں۔

اس سے قبل اپیل کورٹ نے دوسری بار دو وزرا کی طرف سے درخواست دی گئی تھی کہ بیروت بندرگاہ میں ہونے والے دھماکوں میں کوتاہی برتنے پر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔