.

کویت کی بیروت میں مسلح جھڑپوں کے بعد اپنے شہریوں کولبنان چھوڑنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں کویتی سفارت خانے نے بیروت میں مسلح جھڑپوں کے بعد اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے اور لبنان آنے کے خواہاں کویتیوں سے کہاہے کہ وہ ابھی انتظار کریں۔

کویت سفارت خانے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان میں کویتی شہریوں کو اپنی قیام گاہوں تک محدود رہنا چاہیے اور مجازمقامی حکام کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پاسداری کرنی چاہیے۔

سفارت خانے نے لبنان میں موجود کویتی شہریوں پرزوردیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مدد اور معلومات کے لیے ان ہنگامی فون نمبروں پررابطہ کرسکتے ہیں: 0096171171441 اور 009611792902۔

قبل ازیں لبنانی وزیرداخلہ باسم مولوی نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعرات کو بیروت میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ اوراس کے اتحادیوں کی جانب سے شہر کی بندرگاہ پر گذشتہ سال تباہ کن دھماکے کی تحقیقات کرنے والے جج کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔اس دوران میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چھے افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے افراد کوعمارتوں میں گھات لگا کر چھپے مسلح افراد(اسنائپرز) نے گولیاں مارکرہلاک یا زخمی کیا ہے۔ان اسنائپرزاور مسلح افراد کے درمیان پستولوں اورکلاشنکوفوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور انھوں نے راکٹ سے چلنے والے دستی بموں سے حملے کیے ہیں۔تشدد کے ان واقعات کے بعد لبنان میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

لبنانی دارالحکومت کے بہت سے علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں اور ایمبولینس گاڑیاں زخمیوں کو اٹھانے کے لیے جائے وقوعہ پر دیکھی گئی ہیں۔اس دوران میں سائرن بج رہے تھے۔ اسنائپرز کی فائرنگ سے علاقے میں اپارٹمنٹوں کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ایک سیکورٹی عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بیروت میں فرانس کے زیرانتظام ایک نجی اسکول فریرس آف فرن ال شیبک کے قریب چار پراجیکٹائلز گر گئے ہیں جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔