.

حجاب نہ پہننے والی خاتون پرایرانی پولیس کا تشدد، گرفتار: ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایرانی پولیس اہلکاروں کو حجاب نہ پہننے والی ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں پولیس گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پولیس کی اخلاقی گراوٹ اور بربریت قرار دیا ہے۔

جمعرات کو مشہور ایرانی سماجی کارکن مسیح علی نژاد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دکھایا گیا کہ پولیس نے ایک عورت کو حجاب نہ پہننے پر زبردستی پر گرفتار کیا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار وحشیانہ طریقے سے ایک خاتون کو گھیسٹ کر ایک پولیس گاڑی میں ڈال رہے ہیں۔

ایک اور کارکن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ کیا ایران کی یہ اصلیت اور حقیقت ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں؟ یہ وہی ہے جو آپ یہاں دیکھ رہے ہیں (ویڈیو میں) ‘انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو عام طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، مارا پیٹا جاتا ہے اور پردہ نہ کرنے کی وجہ سے تشدد کر کے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔

"وائٹ ویڈنس ڈے"

قابل ذکر ہے کہ نیو یارک سٹی میں رہنے والی مسیح علی نژاد نے ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے ہائی پروفائل مہمات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس میں "وائٹ بدھ" مہم بھی شامل ہے اس میں ایران میں خواتین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہر بدھ کو سفید حجاب اوڑھ کر حجاب کی لازمی پابندی کے قوانین کے خلاف احتجاج کریں۔

مسیح علی نژاد نے حالیہ برسوں میں ایران میں خواتین اور لڑکیوں میں وسیع حمایت حاصل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں