.

’قلعہ الزریب‘ جو بحر احمر کے کنارے حاجیوں کی آرام گاہ کہلاتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال مغرب میں بحر الاحمر کے ساحل پر واقع ایک تاریخی قلعہ ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے تاہم یہ قلعہ ماضی میں حجاج کرام کی اس علاقے میں آرام گاہ کہلاتا تھا۔

اپنے قدیم فن تعمیر، بناوٹ، دیواروں، تعمیر میں استعمال ہونے والی مٹی کی بہ دولت یہ قلعہ ایک تاریخی مقام کا درجہ رکھتا اور قدیم فن تعمیر کا ایک زندہ شاہ کار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر سے لوگ اس قلعے کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہ قلعہ الوجہ گورنری میں سیاحوں کے لیے ایک پرکشش لینڈ مارک کا درجہ رکھتا ہے۔

ساحل سمندر کے قریب تعمیر کیا گیا یہ قلعہ وادی الزریب میں وقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قلعے کو بھی ’قلعہ الزریب‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

فوٹو گرافر محمد الشریف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الزریب قلعے کی تاریخی اہمیت اور قدیم فن تعمیر پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ قلعہ وادی الزریب کے وسط میں واقع ہے۔ یہ ایک وسیع وعریض وادی ہے جس میں اراک، السدر اور طلع کے درخت کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ یہ وادی ایک پہاڑی چوٹی کے قریب ہےجو کسی دور میں حجاج کرام کی گذرگاہ ہوتی تھی اور اس میں موجود قلعہ حجاج کرام کے لیے ایک پڑاؤ کا درجہ رکھتا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ الزریب تبوک کے علاقے میں پرانے دور کی اب تک بچ جانے والی عماوتوں میں سے ایک ہے۔ یہ قلعہ 1617ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس دور میں مصر، لیبیا، تونس، مراکش اور دوسرے ممالک سے آنے والے حجاج کرام کےقافلے اس قلعے میں قیام کرتے۔

الشریف نے بتایا کہ قلعے کا نقشہ مستطیل شکل میں ہے اور اس کی تعمیر میں مٹی کے پھر استعمال کیے گئے ہیں۔

قلعے میں چار برج اور کئی کمرے ہیں۔ یہ کمرےانتظامی امور اور قیام اور آرام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ قلعے میں پانی کا ایک کنواں اور ایک مسجد بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں